کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
وکالہ کا بیان
باب
جب وکیل کسی خراب چیز کو بیچ دے تو اس کی بیع مقبول نہیں ہے۔
حدیث نمبر
2157
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ هُوَ ابْنُ سَلَّامٍ عَنْ يَحْيَی قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَائَ بِلَالٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ هَذَا قَالَ بِلَالٌ کَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ رَدِيٌّ فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ لِنُطْعِمَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِکَ أَوَّهْ أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا عَيْنُ الرِّبَا لَا تَفْعَلْ وَلَکِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ فَبِعْ التَّمْرَ بِبَيْعٍ آخَرَ ثُمَّ اشْتَرِهِ
اسحق، یحیی بن صالح، معاویہ بن سلام، یحیی، عقبہ بن عبدا لغافر ابوسعید خدری کے متعلق بیان کرتے ہیں، کہ میں نے ان کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ بلال نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس برنی کھجور (ایک عمدہ قسم کی کھجور) لے کر آئے، آپ نے پوچھا کہاں سے ملی؟ بلال نے عرض کیا، کہ میرے پاس خراب قسم کی کھجور تھی، میں نے ایک صاع کے عوض دو صاع کھجوریں بیچ ڈالیں، تاکہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو کھلاؤں، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت فرمایا، اوہ، اوہ، توبہ، توبہ، یہ تو بالکل سود ہے، یہ تو بالکل سود ہے ایسا نہ کیا کرو، بلکہ جب تم خریدنا چاہو تو اپنی کھجور کسی چیز کے بدلے بیچ دو، پھر اس کے عوض دوسر ی کھجور خرید لو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment