Tuesday, February 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2158


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
وکالہ کا بیان
باب
وقف میں وکیل ہونے اور وکیل کے خرچ اور اپنے دوست کو کھلانے اور خود بھی دستور کے موافق کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر
2158
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ فِي صَدَقَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْسَ عَلَی الْوَلِيِّ جُنَاحٌ أَنْ يَأْکُلَ وَيُؤْکِلَ صَدِيقًا لَهُ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا فَکَانَ ابْنُ عُمَرَ هُوَ يَلِي صَدَقَةَ عُمَرَ يُهْدِي لِنَاسٍ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ کَانَ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ
قتیبہ بن سعید، سفیان، عمرو سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عمر کے صدقہ کی کتاب میں یہ مضمون تھا کہ متولی کے کھانے اور دوستوں کے کھلا نے میں کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ مال جمع کرنے کا ارا دہ نہ ہو، ابن عمر حضرت عمر کے صدقہ کے متولی تھے، اہل مکہ کے پاس جہاں وہ اترتے تھے، ہد یہ بھیجا کرتے تھے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment