کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کھیتی اور بٹائی کے متعلق جو روایتیں منقول ہیں
باب
کسی قوم کے روپیہ سے بغیر ان کی اجازت کے کاشتکاری کرے اور اس میں ان کی بہتری ہو۔
حدیث نمبر
2176
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمْشُونَ أَخَذَهُمْ الْمَطَرُ فَأَوَوْا إِلَی غَارٍ فِي جَبَلٍ فَانْحَطَّتْ عَلَی فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنْ الْجَبَلِ فَانْطَبَقَتْ عَلَيْهِمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا صَالِحَةً لِلَّهِ فَادْعُوا اللَّهَ بِهَا لَعَلَّهُ يُفَرِّجُهَا عَنْکُمْ قَالَ أَحَدُهُمْ اللَّهُمَّ إِنَّهُ کَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ کَبِيرَانِ وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ کُنْتُ أَرْعَی عَلَيْهِمْ فَإِذَا رُحْتُ عَلَيْهِمْ حَلَبْتُ فَبَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ أَسْقِيهِمَا قَبْلَ بَنِيَّ وَإِنِّي اسْتَأْخَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ آتِ حَتَّی أَمْسَيْتُ فَوَجَدْتُهُمَا نَامَا فَحَلَبْتُ کَمَا کُنْتُ أَحْلُبُ فَقُمْتُ عِنْدَ رُئُوسِهِمَا أَکْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا وَأَکْرَهُ أَنْ أَسْقِيَ الصِّبْيَةَ وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ حَتَّی طَلَعَ الْفَجْرُ فَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُهُ ابْتِغَائَ وَجْهِکَ فَافْرُجْ لَنَا فَرْجَةً نَرَی مِنْهَا السَّمَائَ فَفَرَجَ اللَّهُ فَرَأَوْا السَّمَائَ وَقَالَ الْآخَرُ اللَّهُمَّ إِنَّهَا کَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ أَحْبَبْتُهَا کَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَائَ فَطَلَبْتُ مِنْهَا فَأَبَتْ عَلَيَّ حَتَّی أَتَيْتُهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ فَبَغَيْتُ حَتَّی جَمَعْتُهَا فَلَمَّا وَقَعْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا قَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَفْتَحْ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ فَقُمْتُ فَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُهُ ابْتِغَائَ وَجْهِکَ فَافْرُجْ عَنَّا فَرْجَةً فَفَرَجَ وَقَالَ الثَّالِثُ اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ أَرُزٍّ فَلَمَّا قَضَی عَمَلَهُ قَالَ أَعْطِنِي حَقِّي فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَرَغِبَ عَنْهُ فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّی جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا فَجَائَنِي فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ فَقُلْتُ اذْهَبْ إِلَی ذَلِکَ الْبَقَرِ وَرُعَاتِهَا فَخُذْ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَسْتَهْزِئْ بِي فَقُلْتُ إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ بِکَ فَخُذْ فَأَخَذَهُ فَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِکَ ابْتِغَائَ وَجْهِکَ فَافْرُجْ مَا بَقِيَ فَفَرَجَ اللَّهُ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ فَسَعَيْتُ
ابراہیم بن منذر، ابوضمرہ، موسی بن عقبہ، نافع، عبدﷲ بن عمر، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ ایک بار تین آدمی چلے جا رہے تھے تو بارش ہونے لگی، ان لوگوں نے پہاڑ کی ایک غار میں پناہ لی، ان کے غار کے منہ پر پہاڑ کا ایک پتھر لڑھک کر آیا اور غار کا منہ بند ہو گیا، ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اپنے نیک اعمال پر غور کرو جو تم نے خدا کیلئے کئے ہوں، اور اس کے واسطہ سے ﷲ سے دعا کرو، شاید ﷲ اس مصیبت کو تم سے دور کر دے- ان میں سے ایک نے کہا میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھے، میں ان کے لئے جانور چراتا تھا، جب شام کو واپس آتا تو جانور وں کا دودھ دوہتا اور اپنے بچوں سے پہلے میں اپنے والدین کو پلاتا- ایک دن مجھے دیر ہو گئی، میں شام ہو نے تک آیا (جب آیا) تو وہ دونوں سو چکے تھے- چناچہ میں نے دودھ دوہا جس طرح دوہتا تھا اور ان کے سرہا نے کھڑا رہا، لیکن میں نے نامنا سب سمجھا کہ ان کو جگاؤں اور یہ بھی ناپسند ہوا کہ ان بچوں کو پلاؤں، جو میرے قدموں کے نزدیک رو رہے تھے، یہاں تک کہ صبح ہو گئی- اگر تو جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری رضا کی خاطر ایسا کیا ہے تو ہمارے لیے پتھر تھوڑا سا ہٹا دے تاکہ ہم آسمان کو دیکھ سکیں، چناچہ ﷲ نے پتھر کو تھوڑا سا ہٹا دیا تو آسمان انہیں نظر آنے لگا، دوسرے شخص نے کہا کہ یا ﷲ میری ایک چچا زاد بہن تھی، میں اس سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا، جس قدر مردوں کو عورتوں سے محبت ہوتی ہے، میں نے اس سے طلب کیا (یعنی برا کام کرنا چاہا) لیکن اس نے انکار کیا، جب تک کہ میں اس کے لئے سو دینار لے کر نہ آؤں، چناچہ کوشش کر کے میں نے سو دینار جمع کیے اور اس کے پاس لے کر آیا، جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھا، تو اس نے کہا اے ﷲ! کے بندے خدا سے ڈر اور مہر کو ناحق نہ توڑ- میں کھڑا ہو گیا، اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ صرف تیری رضا کیلئے کیا ہے تو مجھ سے اس پتھر کو ہٹا دے- چناچہ وہ پتھر کچھ ہٹ گیا، تیسرے آدمی نے کہا کہ میں نے ایک فرق چاول کے عوض ایک مزدور کو مزدوری پر رکھا جب وہ اپنا کام کر چکا تو مجھ سے اپنا حق مانگا- میں اسے دینے لگا تو اس نے انکار کیا، میں اس سے کھیتی کرنے لگا یہاں تک کہ میں نے اس سے گائے بیل اور چرواہا جمع کیا، پھر وہ شخص آیا اور کہا کہ ﷲ سے ڈر، اور میں نے کہا یہ گائے بیل چراوہے لے جا، اس نے کہا ﷲ سے ڈر اور مجھ سے مذاق نہ کر- میں نے کہا میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا- اسے لے لے، چناچہ اس نے لے لیا- اگر تو جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری رضا کی خاطر ایسا کیا ہے تو باقی پتھر بھی ہٹا دے تو اس پتھر کو ﷲ نے ہٹا دیا، ابن عقبہ نے نافع سے فبغیت کے بجائے فسعیت کا لفظ بیان کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment