کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کھیتی اور بٹائی کے متعلق جو روایتیں منقول ہیں
باب
سونا چاندی کے عوض زمین کو کرایہ پر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر
2187
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمَّايَ أَنَّهُمْ کَانُوا يُکْرُونَ الْأَرْضَ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَی الْأَرْبِعَائِ أَوْ شَيْئٍ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الْأَرْضِ فَنَهَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقُلْتُ لِرَافِعٍ فَکَيْفَ هِيَ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ فَقَالَ رَافِعٌ لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ وَقَالَ اللَّيْثُ وَکَانَ الَّذِي نُهِيَ عَنْ ذَلِکَ مَا لَوْ نَظَرَ فِيهِ ذَوُو الْفَهْمِ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ لَمْ يُجِيزُوهُ لِمَا فِيهِ مِنْ الْمُخَاطَرَةِ قال ابوعبدالله من ههناقول الليث وکان الذي نهي عن ذالک
عمر بن خالد، لیث، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، حنظلہ بن قیس، رافع بن خدیج، سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے چچاؤں نے بیان کیا، کہ وہ لوگ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں چوتھائی پیداوار پر یا ایسی چیز کے عوض جس کو زمین کا مالک مستثنی کر دیتا تھا، زمین کرایہ پر دیتے تھے، تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا میں نے ابورافع سے پوچھا کہ دینار اور درہم کے عوض کرایہ پر دینا کیسا ہے؟ رافع نے کہا کہ دینار اور درہم کے عوض دینے میں کوئی حرج نہیں اور لیث نے کہا کہ جس چیز سے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے، اگر حلال اور حرام کی سمجھ رکھنے والا شخص اس میں غور کرے تو اس کو جائز نہ رکھے، اس سبب سے کہ اس میں خطرہ ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment