کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کھیتی اور بٹائی کے متعلق جو روایتیں منقول ہیں
باب
اس باب کا کوئی عنوان نہیں
حدیث نمبر
2188
بَاب حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ حَدَّثَنَا هِلَالٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَوْمًا يُحَدِّثُ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ فِي الزَّرْعِ فَقَالَ لَهُ أَلَسْتَ فِيمَا شِئْتَ قَالَ بَلَی وَلَکِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ قَالَ فَبَذَرَ فَبَادَرَ الطَّرْفَ نَبَاتُهُ وَاسْتِوَاؤُهُ وَاسْتِحْصَادُهُ فَکَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ فَيَقُولُ اللَّهُ دُونَکَ يَا ابْنَ آدَمَ فَإِنَّهُ لَا يُشْبِعُکَ شَيْئٌ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ وَاللَّهِ لَا تَجِدُهُ إِلَّا قُرَشِيًّا أَوْ أَنْصَارِيًّا فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ وَأَمَّا نَحْنُ فَلَسْنَا بِأَصْحَابِ زَرْعٍ فَضَحِکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن سنان، فلیح، ہلال، (دوسری سند) عبدﷲ بن محمد، ابوعامر، فلیح، ہلال بن علی، عطا بن یسار، ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں، کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ایک دن باتیں کر رہے تھے، ایک دیہات کا رہنے والا آدمی آپ کے پاس بیٹھا تھا آپ نے فرمایا کہ جنتیوں میں سے ایک اپنے پروردگار سے کاشتکاری کی اجازت مانگے گا، تو ﷲ تعالی اس سے کہے گا کیا تو اپنی موجودہ حالت پر راضی نہیں اس نے کہا ہاں! لیکن میں کاشتکاری کرنا پسند کرتا ہوں، چناچہ وہ بیج ڈالے گا اور پلک جھپکنے میں وہ لگ آئےگا- اور سیدھا ہو جائے گا اور کاٹنے کے لائق ہو جائے گا، ﷲ تعالی کہے گا کہ اے ابن آدم! اس کو لے لے، تجھ کو کوئی چیز آسودہ نہیں کر سکتی، اعرابی نے کہا کہ بخدا وہ شخص کوئی قریشی ہو گا یا انصاری ہو گا، اسلئے کہ یہی لوگ کھیتی کرنے والے ہیں، ہم تو کھیتی نہیں کرتے، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم (یہ سنکر) ہنس پڑے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment