کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مساقات کا بیان
باب
کنویں کے متعلق جھگڑنے اور اس میں فیصلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2195
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ عَلَيْهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا الْآيَةَ فَجَائَ الْأَشْعَثُ فَقَالَ مَا حَدَّثَکُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ کَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي فَقَالَ لِي شُهُودَکَ قُلْتُ مَا لِي شُهُودٌ قَالَ فَيَمِينُهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا يَحْلِفَ فَذَکَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ذَلِکَ تَصْدِيقًا لَهُ
عبدان، ابوحمزہ، اعمش، شقیق، عبدﷲ بن مسعود نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا، کہ جو شخص جھوٹی قسمیں کھائے تاکہ کسی کا مال جو اس کے ذمہ واجب ہے اس کو ہضم کرلے، تو وہ خدا سے اس حال میں ملے گا کہ خدا اس پر ناراض ہو گا، چناچہ ﷲ تعالی نے یہ آیت نازل کی کہ جو لوگ ﷲ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں، آخر آیت تک پھر اشعث آئے تو کہا کہ ابوعبدالرحمن تم سے کیا بیان کر رہے تھے یہ آیت تو میرے ہی متعلق نازل ہوئی ہے، میرے چچا زاد بھائی کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا، اس کے متعلق جھگڑا ہوا، تو آپ نے مجھے کہا اپنا گواہ لاؤ میں نے عرض کیا میرا کوئی گواہ نہیں، تو آپنے فرمایا وہ قسم کھا ئے گا میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم وہ تو قسم کھا لے گا، اس وقت آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی تو ﷲ تعالی نے آپ کی تصدیق کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment