کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مساقات کا بیان
باب
نہر کا پانی روکنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2197
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ سَرِّحْ الْمَائَ يَمُرُّ فَأَبَی عَلَيْهِ فَاخْتَصَمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ أَسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ الْمَائَ إِلَی جَارِکَ فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ أَنْ کَانَ ابْنَ عَمَّتِکَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ احْبِسْ الْمَائَ حَتَّی يَرْجِعَ إِلَی الْجَدْرِ فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِکَ فَلَا وَرَبِّکَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّی يُحَکِّمُوکَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ قال محمدبن العباس قال ابوعبدالله ليس احديذکرعن عروةعن عبدالله الاالليس فقط
عبد ﷲ بن یوسف، ابن شہاب، عروہ، عبدﷲ بن زبیر، سے روایت کرتے ہیں، کہ ایک انصاری نے حضرت زبیر سے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حرہ کی نہر کے متعلق جھگڑا کیا، جس سے اپنی کھجوروں کو سیراب کرتے تھے، انصاری نے کہا کہ پانی آنے دو، (لیکن زبیر نے انکار کر دیا) نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مقدمہ پیش ہوا، تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے زبیر سے فرمایا کہ اے زبیر اپنی زمین کو سیراب کر لے پھر پانی اپنے پڑوسی کیلئے چھوڑ دے، انصاری کو غصہ آیا اور کہا کہ وہ آپ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں نا- یہ سنتے ہی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ کارنگ بدل گیا- پھر فرمایا اے زیبر پانی روک لو- یہاں تک کہ دیوار تک نہ پہنچ جائے- زبیر نے کہ بخدا میں گمان کرتا ہوں، کہ یہ آیت اسی کے متعلق نازل ہوئی، (فَلَا وَرَبِّکَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّی يُحَکِّمُوکَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ) الخ قسم ہے تیرے پروردگار کی کہ وہ لوگ مومن نہ ہوں گے، جب تک کہ وہ آپ کو اپنے مقدمہ میں حکم (فیصلہ کرنیوالا) نہ بنائیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment