کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مساقات کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جس نے خیال کیا کہ حوض اور مشک کا مالک اس کے پانی کا زیادہ مستحق ہے۔
حدیث نمبر
2203
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فَشَرِبَ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ هُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ وَالْأَشْيَاخُ عَنْ يَسَارِهِ قَالَ يَا غُلَامُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ الْأَشْيَاخَ فَقَالَ مَا کُنْتُ لِأُوثِرَ بِنَصِيبِي مِنْکَ أَحَدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ
قتیبہ، عبدالعزیز، ابوحازم، سہل بن سعد، سے روایت ہے، کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک پیالا لایا گیا آپ نے اس سے پی لیا اور آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا، جو سب میں کمسن تھا، اور بوڑھے لوگ آپ کے بائیں طرف تھے، آپ نے فرمایا اے لڑکے کیا تو مجھے اس کی اجازت دیتا ہے، کہ میں یہ پیالہ ان بوڑھوں کو دے دوں؟ اس نے کہا یا رسول آپ کے جوٹھے کے لئے میں اپنے حصہ میں اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہ دونگا، چناچہ وہ پیالہ آپ نے اسی کو دے دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment