کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مساقات کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جس نے خیال کیا کہ حوض اور مشک کا مالک اس کے پانی کا زیادہ مستحق ہے۔
حدیث نمبر
2205
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ وَکَثِيرِ بْنِ کَثِيرٍ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَی الْآخَرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ تَرَکَتْ زَمْزَمَ أَوْ قَالَ لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنْ الْمَائِ لَکَانَتْ عَيْنًا مَعِينًا وَأَقْبَلَ جُرْهُمُ فَقَالُوا أَتَأْذَنِينَ أَنْ نَنْزِلَ عِنْدَکِ قَالَتْ نَعَمْ وَلَا حَقَّ لَکُمْ فِي الْمَائِ قَالُوا نَعَمْ
عبد ﷲ بن محمد، عبدالرزاق، معمر، ایوب، و کثیر بن کیثر، سعید بن جبیر، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کہ ﷲ حضرت اسمعیل کی ماں پر رحم کرے، اگر وہ زمزم کو چھوڑ دیتیں، یا یہ فرمایا کہ اگر پانی سے چلو نہ بھرتیں، تو یہ ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا، اور جرہم ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ کیا ہم لوگوں کو آپ اپنے پاس اترنے کی اجازت دیتی ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں! لیکن پانی میں تمہارا کوئی حصہ نہیں، لوگوں نے کہا اچھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment