کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مساقات کا بیان
باب
نہروں سے آدمی اور چوپایوں کے پانی پینے کا بیان۔
حدیث نمبر
2209
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ اللُّقَطَةِ فَقَالَ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِکَائَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَائَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَکَ بِهَا قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ هِيَ لَکَ أَوْ لِأَخِيکَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ فَضَالَّةُ الْإِبِلِ قَالَ مَا لَکَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَائَ وَتَأْکُلُ الشَّجَرَ حَتَّی يَلْقَاهَا رَبُّهَا
اسمعیل، مالک، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، یزید، (منبعث، کے غلام) زید بن خالد سے روایت ہے- کہ ایک شخص رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا- اور آپ سے گری پڑی چیز کے متعلق پوچھا، تو آپ نے فرمایا اس کی تھیلی اور اس کے سر بندھن کو پہچان لو، پھر اس کو ایک سال تک مشتہر کرو، اگر اس کا مالک آ جائے تو خیر ورنہ تمہیں اخیتار ہے، جو چاہو کرو، اس نے پوچھا کہ کھوئی ہوئی بکری؟ آپ نے فرمایا وہ تیری یا تیرے بھائی یا بھیڑیے کی ہے، اس نے پوچھا کھویا ہوا اونٹ؟ آپ نے فرمایا تجھے اس سے کیا سروکار اس کے ساتھ اس کی مشک اور اس کی جوتی ہے، پانی پر پہنچ جائے گا اور درخت سے کھالے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اس سے مل جائے گا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment