کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مساقات کا بیان
باب
سوکھی گھاس اور لکڑی بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2212
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامٌ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّهُ قَالَ أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغْنَمٍ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَی فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَی وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ المُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِکَ الْبَيْتِ مَعَهُ قَيْنَةٌ فَقَالَتْ أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَائِ فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَکْبَادِهِمَا قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ وَمِنْ السَّنَامِ قَالَ قَدْ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَظَرْتُ إِلَی مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَی حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ وَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّی خَرَجَ عَنْهُمْ وَذَلِکَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ
ابراہیم بن موسی، ہشام، ابن جریج، ابن شہاب، علی بن حسین بن علی، حسین بن علی، حضرت علی بن ابی طالب سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بدر کے دن غنیمت میں ایک اونٹنی ملی، اور مجھے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اونٹنی اور دی، ان دونوں کو میں نے ایک دن ایک انصاری کے دروازے پر بٹھایا اور میں ارادہ کر رہا تھا کہ ان دونوں پر اذخر لاد کر لے جاؤں، تاکہ بیچوں اور میرے ساتھ نبی قینقاع کا ایک سنار تھا اس سے فاطمہ کے ولیمہ کی دعوت میں مدد لوں، حمزہ بن عبدالمطلب اسی گھر میں شراب پی رہے تھے ان کے ساتھ ایک گانے والی تھی جو گا رہی تھی أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَائِ (اے حمزہ اگاہ وہ فربہ اونیٹناں لے لو) حمزہ ان دونوں اونٹنیوں کی طرف تلوار لے کر جھپٹ پڑے ان کی کوہان کاٹ ڈالے اور کولہے کاٹ دیئے پھر ان دونوں کی کلچیاں نکال ڈالیں میں نے ابن شہاب سے پوچھا کہ کوہان کیا ہوا، کہا کوہان کاٹ کر لے گئے ابن شہاب کا بیان ہے حضرت علی نے کہا کہ میں نے ایسا منظر دیکھا جس نے مجھے دہشت زدہ کر دیا، میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ کے پاس زید بن حارثہ بھی تھے، میں نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے واقعہ بیان کیا، تو آپ چلے اور آپ کے ساتھ زید بھی چلے، میں بھی آپ کے ساتھ روانہ ہوا، آپ حمزہ کے پاس پہنچے اور بہت غصہ ہوئے، حمزہ نے اپنی نگاہ اٹھائی اور کہا کیا تم میرے باپ دادوں کے غلام ہو، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم الٹے پاؤں واپس ہو گئے، اور ان کے پاس سے چلے گئے، یہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment