Tuesday, February 15, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2356


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
رہن کا بیان
باب
اگر کوئی شخص اپنے غلام سے کہے کہ وہ اللہ کے لیے ہے اور آزادی اور آزاد ی میں گواہ مقرر کرنے کی نیت کرے۔
حدیث نمبر
2356
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمَّا أَقْبَلَ يُرِيدُ الْإِسْلَامَ وَمَعَهُ غُلَامُهُ ضَلَّ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ فَأَقْبَلَ بَعْدَ ذَلِکَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ جَالِسٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا غُلَامُکَ قَدْ أَتَاکَ فَقَالَ أَمَا إِنِّي أُشْهِدُکَ أَنَّهُ حُرٌّ قَالَ فَهُوَ حِينَ يَقُولُ يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَی أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْکُفْرِ نَجَّتِ
محمد بن عبدﷲ بن نمیر محمد بن بشیر اسمٰعیل قیس ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب اسلام قبول کرنے کے ارادہ سے ابوہریرہ نکلے اور ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا ان میں سے ہر ایک دوسرے سے جدا ہو گیا کچھ دنوں کے بعد وہ غلام آیا اس حال میں کہ ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تیرا غلام ہے جو تیرے پاس آیا ہے ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا میں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ آزاد ہے ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ مدینہ پہنچ کر یہ شعر کہہ رہے تھے- درازی شب اور اس کی سختیوں سے شکایت ہے مگر یہ کہ دارالفکر سے اس نے نجات دلائی!



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment