کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
رہن کا بیان
باب
اگر عربی غلام کا مالک ہو جائے اور اس کو ہبہ کردے بیچ دے تو کیا یہ درست ہے؟۔
حدیث نمبر
2365
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ذَکَرَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَائَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ إِنَّ مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِحْدَی الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا الْمَالَ وَإِمَّا السَّبْيَ وَقَدْ کُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنْ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَی الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَکُمْ قَدْ جَائُونَا تَائِبِينَ وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِکَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَکُونَ عَلَی حَظِّهِ حَتَّی نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيئُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ فَقَالَ النَّاسُ طَيَّبْنَا لَکَ ذَلِکَ قَالَ إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْکُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّی يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُکُمْ أَمْرَکُمْ فَرَجَعَ النَّاسُ فَکَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ وَقَالَ أَنَسٌ قَالَ عَبَّاسٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَادَيْتُ نَفْسِي وَفَادَيْتُ عَقِيلًا
ابن ابی مریم لیث عقیل ابن شہاب عروہ مروان اور مسور بن مخزمہ سے روایت کرتے ہیں ان دونوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس جب ہوازن کا وفد آیا تو ان لوگوں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کا مال اور ان کے قیدی واپس کیے جائیں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے ساتھ اور لوگ بھی ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور مجھے سچی بات سب سے زیادہ پسند ہے چناچہ دو باتوں میں سے ایک اختیار کرو یا تو مال لو یا قیدی کو اور میں نے اسی لیے ان کی تقسیم میں تاخیر کی تھی اور نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا دس راتوں سے زائد تک انتظار کیا تھا پھر طائف سے واپس ہوئے تھے جب لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم دو چیزوں میں سے صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے لوگوں نے عرض کیا کہ ہم قیدیوں کو اختیار کرتے ہیں (قیدیوں کو لینا چاہتے ہیں) نبی صلی ﷲ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور ﷲ کی تعریف بیان کی جس کا وہ مستحق ہے پھر فرمایا تمہارے بھائی ہمارے پاس توبہ کر کے آئے ہیں اور میرا خیال ہے کہ میں ان کو ان کے قیدی واپس کر دوں اور جو تم میں سے یہ خوشی سے کرنا چاہے تو کرے اور جو اپنا حصہ واپس نہ کرنا چاہے تو (انتظار کرے) یہاں تک کہ ہم اس کو مال غنیمت میں سے دیں گے جو سب سے پہلے ہم کو ﷲ دے گا تو ایسا کرے لوگوں نے کہا کہ ہم بخوشی ایسا کرنے کو تیار ہیں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہمیں معلوم نہیں کہ کس نے اجازت دی ہے اور کس نے اجازت نہیں دی اس لیے تم واپس جاؤ یہاں تک کہ تمہارے سردار تمہارے پاس تمہارا معاملہ پیش کریں لوگ واپس چلے گئے ان سے ان کے سرداروں نے گفتگو کی پھر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ لوگ اسی پر راضی ہیں اور اس کی اجازت دے دی ہے زہری کا بیان ہے کہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق مجھے یہی حال معلوم ہوا ہے اور انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ حضرت عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا میں نے اپنا اور عقیل کا فدیہ دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment