کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مکاتب کرنے کا بیان
باب
کسی مجبوری کی بناء پر ہدیہ قبول نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2417
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ أَنَّهُ أَهْدَی لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ بِالْأَبْوَائِ أَوْ بِوَدَّانَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ قَالَ صَعْبٌ فَلَمَّا عَرَفَ فِي وَجْهِي رَدَّهُ هَدِيَّتِي قَالَ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْکَ وَلَکِنَّا حُرُمٌ
ابو الیمان شعیب زہری عبید ﷲ بن عبدﷲ بن عتبہ عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا انہوں نے صعب بن جثامہ لیثی سے جو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے صحابی تھے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو ایک گورخر تحفہ بھیجا اس وقت آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ابواء یا ودان میں حالت احرام میں تھے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واپس کردیا صعب نے کہا کہ جب میرے چہرے پر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ہدیہ واپس کردینے کے سبب سے ناراضی کا اثر دیکھا تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارا تحفہ واپس کرنا مناسب نہ تھا مگر اس سبب سے (واپس کردیا) کہ ہم احرام میں ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment