Wednesday, February 16, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2427


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مکاتب کرنے کا بیان
باب
اگر چند آدمی ایک جماعت کو ہبہ کردیں۔
حدیث نمبر
2427
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِينَ جَائَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِحْدَی الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيَ وَإِمَّا الْمَالَ وَقَدْ کُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنْ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَی الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَکُمْ هَؤُلَائِ جَائُونَا تَائِبِينَ وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِکَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَکُونَ عَلَی حَظِّهِ حَتَّی نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيئُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ فَقَالَ النَّاسُ طَيَّبْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْکُمْ فِيهِ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّی يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُکُمْ أَمْرَکُمْ فَرَجَعَ النَّاسُ فَکَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا وَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا مِنْ سَبْيِ هَوَازِنَ هَذَا آخِرُ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ يَعْنِي فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا
یحییٰ بن بکیر لیث عقیل ابن شہاب عروہ مروان بن حکم و مسور بن مخرمہ سے روایت کرتے ہیں ان دونوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس جب ہواز کا وفد مسلمان ہوکر آیا اور ان لوگوں نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کو ان کے مال اور قیدی واپس کردیں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا کہ میرے ساتھ جولوگ ہیں انہیں تم دیکھ رہے ہو اور میرے نزدیک سچی بات سب سے زیادہ اچھی ہے اس لیے تم دو چیزوں میں سے ایک کو اختیار کرو یا تو قیدی یا مال لو اور اسی لیے میں نے تمہارا انتظار کیا تھا نبی صلی ﷲ علیہ وسلم دس سے زائد رات تک ان لوگوں کا انتظار کرکے طائف سے واپس ہوئے جب ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم دو چیزوں میں سے صرف ایک ہی واپس کریں گے تو ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم اپنے قیدی واپس لینا چاہتے ہیں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم مسلمانوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور خدا کی تعریف بیان کی جو اس کے شایان شان ہے پھر فرمایا اما بعد تمہارے یہ بھائی تمہارے پاس تائب ہوکر آئے آئے ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ ان کے قیدی ان کو واپس کردوں تم میں سے جو شخص برضا و رغبت کرنا چاہے تو ایسا کرے اور جو شخص اپنے حصے پر قائم رہنا چاہے یہاں تک کہ ﷲ تعالیٰ سب سے پہلے مال غنیمت جو ہمیں عطا کرے اس میں سے ہم ان کو دیں تو ایسا ہی کرے لوگوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ ہم برضا و رغبت ایسا کرتے ہیں (یعنی ان کے قیدی واپس کردیتے ہیں) آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے کہا ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی اور کس نے اجازت نہ دی اس لیے تم واپس جاؤ یہاں تک کہ تمہارے سردار ہمارے پاس تمہارا معاملہ بیان کریں لوگ واپس گئے ان سے ان کے سرداروں نے گفتگو کی پھر وہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس ہوئے اور آپ سے بیان کیا کہ لوگ بخوشی ایسا کرنے کو (قیدی واپس کرنے کو) تیار ہیں ہوازن کے قیدیوں کا حال ہم تک اس طرح پہنچا ہے یہ آخری قول یعنی فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا زہری کا قول ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment