کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مکاتب کرنے کا بیان
باب
مشرکوں کے ہدیہ کا قبول کرنا۔
حدیث نمبر
2435
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْکُمْ طَعَامٌ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ فَعُجِنَ ثُمَّ جَائَ رَجُلٌ مُشْرِکٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً أَوْ قَالَ أَمْ هِبَةً قَالَ لَا بَلْ بَيْعٌ فَاشْتَرَی مِنْهُ شَاةً فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَی وَايْمُ اللَّهِ مَا فِي الثَّلَاثِينَ وَالْمِائَةِ إِلَّا قَدْ حَزَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا إِنْ کَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ وَإِنْ کَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ فَجَعَلَ مِنْهَا قَصْعَتَيْنِ فَأَکَلُوا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا فَفَضَلَتْ الْقَصْعَتَانِ فَحَمَلْنَاهُ عَلَی الْبَعِيرِ أَوْ کَمَا قَالَ
ابو النعمان معتمر بن سلیمان سلیمان ابوعثمان عبدالرحمن بن ابی بکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم ایک سو تیس آدمی نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ (ایک سفر میں) تھے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کسی کے پاس کھانا ہے؟ اس وقت ایک آدمی کے پاس ایک صاع یا ایک صاع کے قریب آٹا تھا- وہ آٹا گوندھا گیا پھر ایک مشرک دراز قد جس کے بال بکھرے ہوئے تھے بکریوں کا ایک ریوڑ ہانکتا ہوا لے کر آیا نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے پوچھا کیا عطیہ ہے یا ہبہ ہے؟ اس نے کہا نہیں بلکہ بیچتا ہوں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ایک بکری خرید لی اسے ذبح کیا گیا اور نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے کلیجی بھننے کا حکم دیا خدا کی قسم ان ایک سو تیس آدمیوں میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جس کو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کلیجی ایک ایک ٹکڑا نہ دیا ہو جو موجود تھا اس کو وہیں دے دیا اور جو موجود نہ تھا اس کا حصہ چھپا کر رکھ دیا پھر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس گوشت کے دو پیالے بنائے جن میں سے تمام لوگوں نے کھایا اور خوب سیر ہوکر کھایا بلکہ دونوں سالوں میں سے کچھ گوشت بچ بھی گیا جس کو ہم نے اونٹ پر رکھ لیا کے کچھ الفاظ راوی نے بیان کیے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment