Wednesday, February 16, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2454


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
گواہیوں کا بیان
باب
اگر کوئی شخص کسی کی نیک چلنی بیان کرتے ہوئے اس طور پر کہے کہ ہم تو اس کو بھلا ہی جانتے ہیں یا میں نے اس کو بھلا ہی جانا ہے۔
حدیث نمبر
2454
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ الْمُسَيَّبِ وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْکِ مَا قَالُوا فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَأُسَامَةَ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ يَسْتَأْمِرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ فَأَمَّا أُسَامَةُ فَقَالَ أَهْلُکَ وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا وَقَالَتْ بَرِيرَةُ إِنْ رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا أَغْمِصُهُ أَکْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْکُلُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَعْذِرُنَا فِي رَجُلٍ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ مِنْ أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا وَلَقَدْ ذَکَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا
حجاج عبدﷲ بن عمر نمیری لیث یونس ابن شہاب عروۃ و ابن مسیب و علقمہ بن وقاص و عبید ﷲ حضرت عائشہ پر تہمت کا واقعہ بیان کرتے ہیں اور ان میں سے بعض کی حدیث دوسرے کی تصدیق کرتی ہے تہمت لگانے والوں نے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا پر تہمت لگائی تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اور اسامہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو بلایا جب وحی کے آنے میں دیر ہوئی تو ان دونوں سے اپنی بیوی کے جدا کرنے کے متعلق مشورہ لیا تو اسامہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ ہم آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی میں بھلائی ہی جانتے ہیں اور بریرہ نے کہا میں نے ان میں کوئی عیب کی بات نہیں دیکھی بجز اس کے کہ وہ ایک کم سن عورت ہیں آٹا گوندھ کر سو جاتی ہیں اور بکری آکر اس کو کھا جاتی ہے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کون شخص اس کی جانب سے عذر خواہی کر سکتا ہے جس نے مجھے میرے اہل بیت کے متعلق اذیت پہنچائی (یعنی تہمت لگائی) خدا کی قسم میں تو اپنی بیوی میں بھلائی ہی دیکھتا ہوں اور لوگ ایسے آدمی سے تہمت لگاتے ہیں جس کو میں نے بھلا ہی جانا ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment