کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
گواہیوں کا بیان
باب
نسب اور مشہور رضاعت اور پرانی موت کی گواہی دینے اور اس پر قائم رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2461
حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا الْحَکَمُ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ فَلَمْ آذَنْ لَهُ فَقَالَ أَتَحْتَجِبِينَ مِنِّي وَأَنَا عَمُّکِ فَقُلْتُ وَکَيْفَ ذَلِکَ قَالَ أَرْضَعَتْکِ امْرَأَةُ أَخِي بِلَبَنِ أَخِي فَقَالَتْ سَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَدَقَ أَفْلَحُ ائْذَنِي لَهُ
آدم شعبہ حکم عراک بن مالک عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے افلح نے اندر آنے کی اجازت چاہی میں نے اجازت نہیں دی انہوں نے کہا کہ کیا تم مجھ سے پردہ کرتی ہو حالانکہ میں تمہارا چچا ہوں میں نے کہا یہ کیونکر ہو سکتا ہے انہوں نے کہا تم کو میرے بھائی کی بیوی نے میرے بھائی کے دودھ سے پلایا ہے- حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے اس کے متعلق رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا افلح سچا ہے اس کو آنے دو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment