کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
گواہیوں کا بیان
باب
نسب اور مشہور رضاعت اور پرانی موت کی گواہی دینے اور اس پر قائم رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2464
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي رَجُلٌ قَالَ يَا عَائِشَةُ مَنْ هَذَا قُلْتُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ قَالَ يَا عَائِشَةُ انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُکُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ تَابَعَهُ ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ
محمد بن کثیر سفیان اشعث بن ابی الشعثاء مسروق عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میرے پاس رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت میرے پاس ایک مرد بیٹھا ہوا تھا آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا یہ کون آدمی ہے؟ میں نے عرض کیا یہ میرا رضاعی بھائی ہے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا دیکھ لیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہیں رضاعت تو وہی معتبر ہے جو بھوک کی حالت میں پیا جائے (یعنی کم سنی میں) ابن مہدی نے سفیان سے اس کے متابع حدیث روایت کی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment