Friday, March 18, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:155, Total Hadith no: 2691

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ الْتَمِسْ غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِکُمْ يَخْدُمُنِي حَتَّی أَخْرُجَ إِلَی خَيْبَرَ فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ مُرْدِفِي وَأَنَا غُلَامٌ رَاهَقْتُ الْحُلُمَ فَکُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ فَکُنْتُ أَسْمَعُهُ کَثِيرًا يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ثُمَّ قَدِمْنَا خَيْبَرَ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُکِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَکَانَتْ عَرُوسًا فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا حَتَّی بَلَغْنَا سَدَّ الصَّهْبَائِ حَلَّتْ فَبَنَی بِهَا ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آذِنْ مَنْ حَوْلَکَ فَکَانَتْ تِلْکَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی صَفِيَّةَ ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَی الْمَدِينَةِ قَالَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَائَهُ بِعَبَائَةٍ ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُکْبَتَهُ فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَی رُکْبَتِهِ حَتَّی تَرْکَبَ فَسِرْنَا حَتَّی إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَی الْمَدِينَةِ نَظَرَ إِلَی أُحُدٍ فَقَالَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ثُمَّ نَظَرَ إِلَی الْمَدِينَةِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا بِمِثْلِ مَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَکَّةَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ

قتیبہ، یعقوب، عمر و، انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ابوطلحہ سے فرمایا کہ کوئی لڑکا تم اپنے لڑکوں میں سے تلاش کردو، جو میرا کام کردیا کرے، تاکہ میں خیبر جاؤں، پس مجھے ابوطلحہ اپنے ہمراہ سوارکرکے لے گئے میں قریب البلوغ تھا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، جب آپ فرو کش ہوتے تھے، میں اکثر آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنتا تھا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ (ترجمہ اے ﷲ میں تیری پناہ مانگتا ہوں، غم ورنج سے اور عاجزی اور سستی سے اور بخل سے اور نامردی سے اور قرض کے بارے میں اور لوگوں کے غلبہ سے) بعد اس کے ہم خیبر گئے تو جب ﷲ نے خیبر کا قلعہ آپ کے لئے فتح کردیا، تو آپ سے صفیہ بنت حیی کے جمال کا ذکر کیا گیا، ان کا شوہر اسی لڑائی میں مقتول ہو چکا تھا، اور وہ نئی دلہن تھیں، لہٰذا انہیں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے لیئے خاص کرلیا اور ان کو اپنے ہمراہ لے چلے یہاں تک کہ جب ہم لوگ مقام سدا الصہباء تک پہنچے اور وہ (حیض سے) طاہر ہوئیں، تو آپ نے ان سے زفاف کیا، بعد اس کے آپ نے ایک چمڑے کے چھوٹے سے دسترخوان میں حیس بنوایا اور مجھ سے فرمایا جس قدر لوگ تمہارے آس پاس ہیں، سب کو بلالو، بس حضرت صفیہ کا یہی ولیمہ تھا، اس کے بعد ہم مدینہ کو چلے، حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں پھر میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صفیہ کو اپنی عبا اڑہائے ہوئے تھے (جب کبھی اترنے چڑھنے کی ضرورت ہوجاتی تھی، تو) آپ اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ جاتے تھے، اور اپنا گھٹنا رکھ دیتے تھے، صفیہ اپنے پیر آپ کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہو جاتی تھیں پھر ہم چلے یہاں تک کہ جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ نے احد کی طرف دیکھا، اور فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں- پھر آپ نے مدینہ کی طرف نظر کی اور فرمایا کہ اے ﷲ میں اس کے دونوں سنگستانوں کے درمیانی مقام کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم نے مکہ کو حرم قرار دیا اے ﷲ مدینہ والوں کے لئے مد میں اور صاع میں برکت دے



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = بچے کو میدان جنگ میں خدمت کیلئے لے جانے کا بیان۔
جلد نمبر  2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر  155
ٹوٹل حدیث نمبر  2691


contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment