Saturday, March 19, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:200, Total Hadith no: 2736

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ القَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَی يَدَيْهِ فَقَامُوا يَرْجُونَ لِذَلِکَ أَيُّهُمْ يُعْطَی فَغَدَوْا وَکُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَی فَقَالَ أَيْنَ عَلِيٌّ فَقِيلَ يَشْتَکِي عَيْنَيْهِ فَأَمَرَ فَدُعِيَ لَهُ فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ مَکَانَهُ حَتَّی کَأَنَّه لَمْ يَکُنْ بِهِ شَيْئٌ فَقَالَ نُقَاتِلُهُمْ حَتَّی يَکُونُوا مِثْلَنَا فَقَالَ عَلَی رِسْلِکَ حَتَّی تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يُهْدَی بِکَ رَجُلٌ وَاحِدٌ خَيْرٌ لَکَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ

عبد ﷲ ابن مسلمہ قعنبی، عبدالعزیز بن ابی حازم، ابوحازم سہل بن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو خیبر کے دن فرماتے ہوئے سنا کہ اب کے جھنڈا اس کو دوں گا جس کے ہاتھ پر فتح ہوجائے گی، پھر صحابہ میں سے ہر ایک اس بات کی امید کرنے لگے کہ علم و پرچم ہم کو مر حمت ہوگا، لیکن دوسرے دن تمام صحابہ کی موجودگی میں، سرور عالم نے فرمایا، علی کہاں ہیں؟ کسی نے کہا، ان کی آنکھوں میں درد ہے، آپ نے ان کو بلایا اور وہ آپ کے سامنے حاضر کئے گئے، آپ نے ان کی دونوں آنکھوں میں لعاب لگایا، جب وہ اچھے ہو گئے، اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پہلے ان کو کوئی شکایت تھی ہی نہیں، اس کے بعد ان کو علم دیا، حضرت علی نے کہا، ہم ان کافروں سے جنگ کریں گے، حتیٰ کہ کہ وہ ہمارے مثل ہو جائیں، آپ نے فرمایا کہ آہستگی کرو، جب تم ان کے میدان میں جاؤ، تو ان کو سلام کی وعوت دینا، اور جو خدا کی طرف سے ان پر فرض ہے، اس سے ان کو آگاہ کرنا، قسم ہے خدا کی، کہ تمہارے ذریعہ کسی ایک شخص کو بھی ہدایت مل گئی، تو یہ عمل تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ اچھا ہوگا



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = سرور عالم کا کافروں کو اسلام اور نبوت کی طرف بلانے کا بیان
جلد نمبر  2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر  200
ٹوٹل حدیث نمبر  2736


contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment