حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ بَيْتًا بِالْمَدِينَةِ غَيْرَ بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ إِنِّي أَرْحَمُهَا قُتِلَ أَخُوهَا مَعِي.
موسیٰ، ہمام، اسحق بن عبدﷲ ، حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں ام سیلم اور اپنی ازواج کے گھروں کے علاوہ اور کسی کے گھر تشریف نہ لے جاتے تھے، آپ سے کسی نے کہا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں، فرمایا میں اس پرترس کھاتا ہوں، اس کا بھائی میرے ہمراہ مقتول ہوا ہے
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = غازی کو سامان مہیا کرنے یا اس کی عدم موجودگی میں اس کے گھر کی اچھی طرح خبر گیر کرنے کی فضلیت کا بیان۔
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 108
ٹوٹل حدیث نمبر 2644
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
موسیٰ، ہمام، اسحق بن عبدﷲ ، حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں ام سیلم اور اپنی ازواج کے گھروں کے علاوہ اور کسی کے گھر تشریف نہ لے جاتے تھے، آپ سے کسی نے کہا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں، فرمایا میں اس پرترس کھاتا ہوں، اس کا بھائی میرے ہمراہ مقتول ہوا ہے
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = غازی کو سامان مہیا کرنے یا اس کی عدم موجودگی میں اس کے گھر کی اچھی طرح خبر گیر کرنے کی فضلیت کا بیان۔
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 108
ٹوٹل حدیث نمبر 2644
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment