Friday, March 25, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:409, Total Hadith no: 2945

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرٌ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ انْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ إِلَی خَيْبَرَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ فَتَفَرَّقَا فَأَتَی مُحَيِّصَةُ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ يَتَشَمَّطُ فِي دَمِهِ قَتِيلًا فَدَفَنَهُ ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَکَلَّمُ فَقَالَ کَبِّرْ کَبِّرْ وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ فَسَکَتَ فَتَکَلَّمَا فَقَالَ تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَکُمْ أَوْ صَاحِبَکُمْ قَالُوا وَکَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ قَالَ فَتُبْرِيکُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ فَقَالُوا کَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ کُفَّارٍ فَعَقَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ

مسدد بشر یعنی ابن مفضل یحییٰ بشیر سہل ابن ابی حثمہ سے روایت کرتے ہیں کہ عبد ﷲ بن سہل اور محیصہ ابن مسعود بن زیدیہ دونوں خیبر کی طرف روانہ ہوئے اور خیبر والوں سے صلح کا زمانہ تھا ایک مرتبہ یہ دونوں ذرا الگ ہو گئے تھے کہ عبد ﷲ بن سہل کے پاس محیصہ کی لاش کو خون میں لتھڑا ہوا لایا گیا جن کو انہوں نے دفن کردیا اور پھر اس کے بعد وہ مدینہ لوٹ آئے ایک مرتبہ سہیل کے بیٹے عبدالرحمن اور مسعود کے دو بیٹے محیصہ اور حویصہ یہ تینوں مل کر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عبد ﷲ بن سہل شہید کی بابت عبدالرحمن آپ سے گفتگو کرنے لگے تو آپ نے فرمایا بڑے کو بات کرنے دو اور وہ عمرمیں سب سے چھوٹے تھے لہذا وہ خاموش ہو گئے تو آپ نے حویصہ اور محیصہ سے فرمایا کہ کیا تم قسم کھا کر قاتل سے اپنے عزیز مقتول کے خون کے استحقاق کو ثابت کرو گے تو انہوں نے عرض کیا کہ ہم قسم کیسے کھا سکتے ہیں نہ ہم وہاں تھے اور نہ ہی ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم پسند کرتے ہو کہ یہودی پچاس قسمیں کھا کر اپنی بریت کرالیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان کافروں پر کیسے اعتبار کر سکتے ہیں بالآخر رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان تینوں مدعیوں کو اپنے پاس سے دیت عطا فرمائی



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = مشرکوں سے مال وغیرہ پر صلح اور قول و قرار کرنے کا بیان۔
جلد نمبر  2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر  409
ٹوٹل حدیث نمبر  2945


contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment