Friday, March 25, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:415, Total Hadith no: 2951

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا کَتَبْنَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَی کَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَی بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالَی قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ قَالَ أَبُو مُوسَی حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَمْ تَجْتَبُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا فَقِيلَ لَهُ وَکَيْفَ تَرَی ذَلِکَ کَائِنًا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِي وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ عَنْ قَوْلِ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ قَالُوا عَمَّ ذَاکَ قَالَ تُنْتَهَکُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَشُدُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلُوبَ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَيَمْنَعُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ

محمد سفیان اعمش ابراہیم تیمی واپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نے قرآن کریم اور جو کچھ اس صحیفہ ربانی میں ہے اس کے علاوہ سرور عالم سے اور کچھ نہیں لکھا سرور عالم نے فرمایا عیر سے فلانے مقام تک مدینہ منورہ حرم ہے جو کوئی یہاں ظلم کرے یا کسی نئی بات پیدا کرنے والے کو جگہ دے تو اس پر ﷲ تعالیٰ فرشتوں اور تمام آدمیوں کی لعنت ہوتی ہے اس کی کوئی نفل اور فرض عبادت قبول نہیں کی جاتی اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری واحد ہے جس میں تمام چھوٹے بڑے داخل ہیں جو کوئی کسی مسلمان کی آبروریزی کرے گا تو اس پر ﷲ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے اس کی نفل اور فرض عبادت منظور نہیں ہوگی اور جو کوئی اپنے آقا اور والی کی اجازت کے بغیر کسی سے دوستی اور موالات کرے گا تو اس پر بھی ﷲ تعالیٰ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی اور ایسے شخص سے بھی اس کی نفل بندگی اور فرض عبادت منظور بارگارہ الٰہی نہیں ہوگی ابوموسیٰ کا بیان ہے کہ ہم سے ہاشم بن قاسم اسحاق بن سعید حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا لوگو! اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب تم کو اشرفی مل سکے گی اور نہ روپیہ پیسہ تو ان سے پوچھا گیا کہ تمہیں آئندہ ہونے والی یہ بات کیسے معلوم ہوئی جس پر انہوں نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی جان ہے میں نے حضور صادق و مصدوق کی زبان سے یہ بات معلوم کرلی ہے لوگوں نے پوچھا معاشی بدحالی کی یہ کیفیت اور اس کی وجہ کیا ہوگی؟ تو ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ ﷲ تعالیٰ اور سرور عالم کے عہد و پیمان اور ضمانت کی بے عزتی اور بے حرمتی کی جائے گی اور اس وقت ﷲ بزرگ و برتر ذمیوں کے دل سخت کردے گا اور جو کچھ ان کافروں اور مشرکوں کے ہاتھوں میں ہوگا اس سے مسلمانوں کو باز رکھیں گے اور مسلمانوں کی کوئی امداد نہیں کریں گے



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = معاہدہ کر کے غداری کرنے والے کے جرم کا بیان
جلد نمبر  2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر  415
ٹوٹل حدیث نمبر  2951


contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment