Friday, March 25, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:406, Total Hadith no: 2942

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ الْقُنُوتِ قَالَ قَبْلَ الرُّکُوعِ فَقُلْتُ إِنَّ فُلَانًا يَزْعُمُ أَنَّکَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّکُوعِ فَقَالَ کَذَبَ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّکُوعِ يَدْعُو عَلَی أَحْيَائٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ بَعَثَ أَرْبَعِينَ أَوْ سَبْعِينَ يَشُکُّ فِيهِ مِنْ الْقُرَّائِ إِلَی أُنَاسٍ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فَعَرَضَ لَهُمْ هَؤُلَائِ فَقَتَلُوهُمْ وَکَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَمَا رَأَيْتُهُ وَجَدَ عَلَی أَحَدٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ

ابوالنعمان ثابت بن یزید عاصم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی ﷲ عنہ سے قنوت پڑھنے کی بابت دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھنا چاہیے تو میں نے کہا فلاں شخص تو یہ بیان کرتا ہے کہ آپ نے رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھنے کیلئے کہا ہے اس پر حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ وہ شخص جھوٹا ہے اور پھر انہوں نے رسالت مآب سے حدیث بیان کی کہ آپ نے ایک مہینہ تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی ہے اور بنو سلیم کے قبیلوں کے لئے آپ بد دعا کرتے تھے حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا یہ بھی بیان ہے کہ سرور عالم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان مشرکین کی طرف چالیس یا ستر قاری روانہ کئے تھے جنہوں نے قرآن شریف کے ان قاریوں سے مزاحمتکرکے ان کو جان سے مار ڈالا اور در آنحالیکہ ان کے اور رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان ایک معاہدہ ہو چکا تھا اس قتل کے بعد میں نے رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کو ان پر بے انتہاء غصہ آیا کہ اتنا غصہ کسی اور پر نہیں کیا



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = بے وفائی اور عہد شکنی کرنے والے کے لئے امام کی بددعا کا بیان
جلد نمبر  2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر  406
ٹوٹل حدیث نمبر  2942


contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment