Saturday, April 16, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:805,Total no:3341


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر
3341
حَدَّثَنِا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ أَخْبَرَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ أَخْبَرَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَشَکَا إِلَيْهِ الْفَاقَةَ ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ فَشَکَا إِلَيْهِ قَطْعَ السَّبِيلِ فَقَالَ يَا عَدِيُّ هَلْ رَأَيْتَ الْحِيرَةَ قُلْتُ لَمْ أَرَهَا وَقَدْ أُنْبِئْتُ عَنْهَا قَالَ فَإِنْ طَالَتْ بِکَ حَيَاةٌ لَتَرَيَنَّ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنْ الْحِيرَةِ حَتَّی تَطُوفَ بِالْکَعْبَةِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ قُلْتُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِي فَأَيْنَ دُعَّارُ طَيِّئٍ الَّذِينَ قَدْ سَعَّرُوا الْبِلَادَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَيَاةٌ لَتُفْتَحَنَّ کُنُوزُ کِسْرَی قُلْتُ کِسْرَی بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کِسْرَی بْنِ هُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَيَاةٌ لَتَرَيَنَّ الرَّجُلَ يُخْرِجُ مِلْئَ کَفِّهِ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ يَطْلُبُ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهُ مِنْهُ وَلَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ أَحَدُکُمْ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ يُتَرْجِمُ لَهُ فَلَيَقُولَنَّ لَهُ أَلَمْ أَبْعَثْ إِلَيْکَ رَسُولًا فَيُبَلِّغَکَ فَيَقُولُ بَلَی فَيَقُولُ أَلَمْ أُعْطِکَ مَالًا وَأُفْضِلْ عَلَيْکَ فَيَقُولُ بَلَی فَيَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَا يَرَی إِلَّا جَهَنَّمَ وَيَنْظُرُ عَنْ يَسَارِهِ فَلَا يَرَی إِلَّا جَهَنَّمَ قَالَ عَدِيٌّ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقَّةِ تَمْرَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ شِقَّةَ تَمْرَةٍ فَبِکَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ قَالَ عَدِيٌّ فَرَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنْ الْحِيرَةِ حَتَّی تَطُوفَ بِالْکَعْبَةِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللَّهَ وَکُنْتُ فِيمَنْ افْتَتَحَ کُنُوزَ کِسْرَی بْنِ هُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِکُمْ حَيَاةٌ لَتَرَوُنَّ مَا قَالَ النَّبِيُّ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرِجُ مِلأَ کَفِّهِ
محمد بن حکم نصر سعد محل حضرت عدی بن حاتم سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص نے آ کر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے فاقہ کی شکایت کی دوسرے نے آپ کے پاس آ کر ڈاکہ زنی کی شکایت کی تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عدی کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے- میں نے عرض کیا میں نے وہ جگہ نہیں دیکھی لیکن اس کا محل وقوع مجھے معلوم ہے- فرمایا اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم دیکھ لو گے کہ ایک بڑھیا عورت حیرہ سے چل کر کعبہ کا طواف کرے گی- خدا کے علاوہ اس کو کسی کا خوف نہ ہو گا میں نے اپنے جی میں کہا (قبیلہ) طے کے ڈاکو کدھر جائیں گے- جنہوں نے تمام شہروں میں آگ لگا رکھی ہے آپ نے فرمایا تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم کسری کے خزانوں کو فتح کرو گے- میں نے دریافت کیا کسری بن ہرمز آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں (کسری بن ہرمز) اور اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم دیکھ لو گے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونا یا چاندی لے کر نکلے گا اور ایسے آدمی کو تلاش کرے گا جو اسے لے لے، لیکن اس کو کوئی نہ ملے گا جو یہ رقم لے لے- یقینا تم میں سے ہر شخص قیامت میں ﷲ سے ملے گا (اس وقت) اس کے اور ﷲ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا- جو اس کی گفتگو کا ترجمہ کرے- خدا تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا میں نے تیرے پاس رسول نہ بھیجا تھا جو تجھے تبلیغ کرتا؟ وہ عرض کرے گا ہاں پھر ﷲ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں نے تجھ کو مال و زر اور فرزند سے نہیں نوازا تھا؟ وہ عرض کرے گا ہاں! پھر وہ اپنی داہنی جانب دیکھے گا دوزخ کے سوا کچھ نہ دیکھے گا حضرت عدی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے سنا کہ آگ سے بچو اگرچہ چھوارے کا ایک ٹکڑا ہی سہی یہ بھی نہ ہو سکے تو کوئی عمدہ بات کہہ کر ہی سہی- عدی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میں نے بڑھیا کو دیکھ لیا کہ حیرہ سے سفر شروع کرتی ہے اور کعبہ کا طواف کرتی ہے اور ﷲ کے سوا اس کو کسی کا ڈر نہیں تھا اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کیے تھے اگر تم لوگوں کی زندگی زیادہ ہوئی تو جو کچھ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونا لے کر نکلے تو تم یہ بھی دیکھ لو گے- عبد الله، ابوعاصم، سعدان بن بشیر، ابومجاهد، محل بن خلیفه، حضرت عدی سے كنت عند النبی كے الفاظ بیان كرتے ہیں .



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment