کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اسلام میں نبوت کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر
3358
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَبُو الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ جَائَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَی أَبِي فِي مَنْزِلِهِ فَاشْتَرَی مِنْهُ رَحْلًا فَقَالَ لِعَازِبٍ ابْعَثْ ابْنَکَ يَحْمِلْهُ مَعِي قَالَ فَحَمَلْتُهُ مَعَهُ وَخَرَجَ أَبِي يَنْتَقِدُ ثَمَنَهُ فَقَالَ لَهُ أَبِي يَا أَبَا بَکْرٍ حَدِّثْنِي کَيْفَ صَنَعْتُمَا حِينَ سَرَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا وَمِنْ الْغَدِ حَتَّی قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ وَخَلَا الطَّرِيقُ لَا يَمُرُّ فِيهِ أَحَدٌ فَرُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ طَوِيلَةٌ لَهَا ظِلٌّ لَمْ تَأْتِ عَلَيْهِ الشَّمْسُ فَنَزَلْنَا عِنْدَهُ وَسَوَّيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَانًا بِيَدِي يَنَامُ عَلَيْهِ وَبَسَطْتُ فِيهِ فَرْوَةً وَقُلْتُ نَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا أَنْفُضُ لَکَ مَا حَوْلَکَ فَنَامَ وَخَرَجْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ مُقْبِلٍ بِغَنَمِهِ إِلَی الصَّخْرَةِ يُرِيدُ مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي أَرَدْنَا فَقُلْتُ لَهُ لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ مَکَّةَ قُلْتُ أَفِي غَنَمِکَ لَبَنٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ أَفَتَحْلُبُ قَالَ نَعَمْ فَأَخَذَ شَاةً فَقُلْتُ انْفُضْ الضَّرْعَ مِنْ التُّرَابِ وَالشَّعَرِ وَالْقَذَی قَالَ فَرَأَيْتُ الْبَرَائَ يَضْرِبُ إِحْدَی يَدَيْهِ عَلَی الْأُخْرَی يَنْفُضُ فَحَلَبَ فِي قَعْبٍ کُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ وَمَعِي إِدَاوَةٌ حَمَلْتُهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَوِي مِنْهَا يَشْرَبُ وَيَتَوَضَّأُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُ فَوَافَقْتُهُ حِينَ اسْتَيْقَظَ فَصَبَبْتُ مِنْ الْمَائِ عَلَی اللَّبَنِ حَتَّی بَرَدَ أَسْفَلُهُ فَقُلْتُ اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَشَرِبَ حَتَّی رَضِيتُ ثُمَّ قَالَ أَلَمْ يَأْنِ لِلرَّحِيلِ قُلْتُ بَلَی قَالَ فَارْتَحَلْنَا بَعْدَمَا مَالَتْ الشَّمْسُ وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِکٍ فَقُلْتُ أُتِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَطَمَتْ بِهِ فَرَسُهُ إِلَی بَطْنِهَا أُرَی فِي جَلَدٍ مِنْ الْأَرْضِ شَکَّ زُهَيْرٌ فَقَالَ إِنِّي أُرَاکُمَا قَدْ دَعَوْتُمَا عَلَيَّ فَادْعُوَا لِي فَاللَّهُ لَکُمَا أَنْ أَرُدَّ عَنْکُمَا الطَّلَبَ فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَجَا فَجَعَلَ لَا يَلْقَی أَحَدًا إِلَّا قَالَ قَدْ کَفَيْتُکُمْ مَا هُنَا فَلَا يَلْقَی أَحَدًا إِلَّا رَدَّهُ قَالَ وَوَفَی لَنَا
محمد بن یوسف احمد زبیر ابواسحق حضرت براء بن عازب سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں (ایک دن) حضرت ابوبکر میرے والد کے پاس گھر تشریف لائے اور ان سے ایک کجاوہ خریدا پھر فرمایا اپنے بیٹے سے کہہ دو کہ وہ اس کو میرے ساتھ لے چلے پھر ان سے میرے والد نے کہا مجھ کو بتلائیے جب آپ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ ہجرت کو چلے تھے تو اس وقت آپ دونوں پر کیا گزری حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ (غار سے نکل کر) ہم ساری رات چلے اور دوسرے دن بھی آدھے دن تک سفر کرتے رہے جب دوپہر ہو گئی اور راستہ بالکل سونا ہو گیا اس پر کوئی شخص چلنے والا نہ رہا تو ہم کو ایک بڑا پتھر نظر آیا جس کے نیچے سایہ تھا دھوپ نہ تھی ہم اس کے پاس اتر پڑے اور میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے لئے ایک جگہ اپنے ہاتھوں سے صاف و ہموار کر دی تا کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس پر سو رہیں- پہر اس پر ایک پوستین بچھا کر عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ تھوڑی دیر کے لئے آرام فرمائیے اور میں ڈھونڈ کر ادھر ادھر سے دودھ لاتا ہوں- آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سو رہے اور میں دودھ لینے کے لئے ادھر ادھر چلا ناگہاں میں نے ایک چرواہے کو دیکھا جو اپنی بکریاں لئے ہوئے اسی پتھر کی طرف آ رہا تھا وہ بھی اس پتھر سے وہی بات چاہتا تھا جو ہم نے چاہی تھی میں نے اس سے دریافت کیا تو کس کا غلام ہے؟ اس نے مدینہ یا مکہ والوں میں سے کسی شخص کا بتلایا میں نے پوچھا کیا تیری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے کہا ہاں میں نے کہا تو دودھ دوہے گا؟ اس نے کہا ہاں! یہ کہہ کر اس نے ایک بکری کو پکڑ لیا میں نے کہا اس کے تھن سے مٹی و نجاست اور بال صاف کر لو اسحق کہتے ہیں میں نے براء کو دیکھا وہ اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مار کر جھاڑتے کہ اس طرح اس نے تھن جھاڑ کر صاف کیا اور ایک پیالہ میں دودھ دھو دیا- میرے پاس ایک چھاگل تھی میں اس کو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خاطر اپنے ہمراہ رکھتا تھا تا کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس سے پانی پی سکیں اور وضو کر سکیں- میں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آیا اور مجھے آپ کو بیدار کرنا اچھا نہ معلوم ہوا لیکن میں نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ بیدار ہو چکے تھے پھر میں نے دودھ میں تھوڑا سا پانی ڈالا حتیٰ کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا اور پھر عرض کیا یا رسول ﷲ پی لیجئے آپ نے پی لیا میں بہت خوش ہوا پھر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا ابھی کوچ کا وقت نہیں آیا؟ میں نے عرض کیا ہاں! وقت آ گیا چناچہ آفتاب ڈھل جانے کے بعد ہم نے کوچ کیا اور سراقہ بن مالک ہمارے پیچھے پیچھے چلا جس کو مکہ کے کافروں نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں بھیجا تھا اور سو اونٹ مقرر کیا تھا میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! ہمارا کوئی تعاقب کر رہا ہے؟ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم فکر نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے پھر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے سراقہ پر بد دعا کی تو اس کا گھوڑا پیٹ تک مع اس کے زمین میں دھنس گیا زمین کے سخت اور پتھریلے ہونے کا زبیر نے شک کیا ہے- سراقہ نے کہا میں جانتا ہوں کہ تم دونوں نے میرے لئے بد دعا کی ہے تم میرے لئے دعا کرو تاکہ میں زمین سے نکل آؤں بخدا میں تمہاری تلاش کرنے والوں کو واپس کر دوں گا- چناچہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی اور اس نے نجات پائی پھر سراقہ جس کسی سے ملتا تو کہتا میں تلاش کر چکا ہوں غرض جس سے ملتا اس کو واپس کر دیتا ابوبکر کہتے ہیں اس نے اپنا وعدہ پورا کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment