کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اس باب میں کوئی عنوان نہیں
حدیث نمبر
3399
حَدَّثَنِاهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِذِ اللَّهِ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَ أَبُو بَکْرٍ آخِذًا بِطَرَفِ ثَوْبِهِ حَتَّی أَبْدَی عَنْ رُکْبَتِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا صَاحِبُکُمْ فَقَدْ غَامَرَ فَسَلَّمَ وَقَالَ إِنِّي کَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنِ الْخَطَّابِ شَيْئٌ فَأَسْرَعْتُ إِلَيْهِ ثُمَّ نَدِمْتُ فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَغْفِرَ لِي فَأَبَی عَلَيَّ فَأَقْبَلْتُ إِلَيْکَ فَقَالَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَکَ يَا أَبَا بَکْرٍ ثَلَاثًا ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ نَدِمَ فَأَتَی مَنْزِلَ أَبِي بَکْرٍ فَسَأَلَ أَثَّمَ أَبُو بَکْرٍ فَقَالُوا لَا فَأَتَی إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فَجَعَلَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَعَّرُ حَتَّی أَشْفَقَ أَبُو بَکْرٍ فَجَثَا عَلَی رُکْبَتَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ أَنَا کُنْتُ أَظْلَمَ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيْکُمْ فَقُلْتُمْ کَذَبْتَ وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ صَدَقَ وَوَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَهَلْ أَنْتُمْ تَارِکُوا لِي صَاحِبِي مَرَّتَيْنِ فَمَا أُوذِيَ بَعْدَهَا
ہشام بن عمار صدقہ بن خالد زید بن واقد بسر بن عبید ﷲ عائذﷲ ابی ادریس حضرت ابوالدرداء رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اپنی چادر کا کنارہ اٹھائے ہوئے آئے ان کا گھٹنا کھل گیا تھا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے یہ دوست لڑ کر آ رہے ہیں ابوبکر نے آ کر سلام کیا اور کہا کہ میرے اور ابن خطاب کے درمیان کچھ جھگڑا ہو گیا میں نے بے ساختہ انہیں کچھ کہہ دیا اس کے بعد میں شرمندہ ہوا اور میں نے ان سے معاف کر دینے کی درخواست کی لیکن انہوں نے معافی دینے سے انکار کر دیا لہذا میں آپ کے پاس التجا لایا ہوں آپ نے تین مرتبہ فرمایا اے ابوبکر خدا تمہیں معاف کر دے پھر عمر شرمندہ ہوئے اور ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے مکان پر گئے اور دریافت کیا ابوبکر یہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا نہیں وہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ کو سلام کیا آنحضرت کا چہرہ متغیر ہونے لگا حتیٰ کہ ابوبکر ڈر گئے اور دونوں گھٹنوں کے بل ہو کر عرض کیا کہ میں نے ہی ظلم کیا تھا تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف بھیجا تو تم لوگوں نے کہا جھوٹا ہے اور ابوبکر نے کہا سچ کہتے ہیں اور انہوں نے اپنے مال و جان سے میری خدمت کی پس کیا تم میرے لئے میرے دوست کو چھوڑ دو گے یا نہیں دو مرتبہ (یہی فرمایا) اس کے بعد ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو کسی نے نہیں ستایا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment