کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اس باب میں کوئی عنوان نہیں
حدیث نمبر
3401
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَمَا رَاعٍ فِي غَنَمِهِ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً فَطَلَبَهُ الرَّاعِي فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الذِّئْبُ فَقَالَ مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَيْسَ لَهَا رَاعٍ غَيْرِي وَبَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً قَدْ حَمَلَ عَلَيْهَا فَالْتَفَتَتْ إِلَيْهِ فَکَلَّمَتْهُ فَقَالَتْ إِنِّي لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا وَلَکِنِّي خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ قَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أُومِنُ بِذَلِکَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
ابوالیمان شعیب زہری ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے خود رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک چرواہا اپنی بکریوں میں تھا کہ ایک بھیڑیئے نے اس پر حملہ کیا اور ایک بکری کو اٹھا کر لے گیا چرواہے نے اس بکری کو بھیڑیئے سے چھڑا لیا تو بھیڑیئے نے اس کی طرف متوجہ ہو کر کہا سبع کے دن (پھاڑنے والے) بکری کا کون محافظ ہو گا؟ جس دن کہ میرے سوا بکری چرانے والا کوئی نظر نہ آئے گا اور ایک شخص بیل کو ہانکے جا رہا تھا کہ اس پر سوار ہو گیا تو بیل نے اس کی طرف متوجہ ہو کر کہا مجھے اس لئے پیدا نہیں کیا گیا کہ تم مجھ پر سوار ی کرو بلکہ میں کاشت کاری کے کاموں کے لئے پیدا کیا گیا ہوں لوگوں نے یہ واقعہ سن کر سبحان ﷲ کہا تو رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ عمر بن خطاب اس پر ایمان لائے ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment