Sunday, April 17, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:882,Total no:3418


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
قرشی عدوی ابوحفص حضرت عمر بن خطاب کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر
3418
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ ح حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُکَلِّمْنَهُ وَيَسْتَکْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ عَلَی صَوْتِهِ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قُمْنَ فَبَادَرْنَ الْحِجَابَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عُمَرُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَکُ فَقَالَ عُمَرُ أَضْحَکَ اللَّهُ سِنَّکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَائِ اللَّاتِي کُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَکَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ فَقَالَ عُمَرُ فَأَنْتَ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ نَعَمْ أَنْتَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيهًا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَکَ الشَّيْطَانُ سَالِکًا فَجًّا قَطُّ إِلَّا سَلَکَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّکَ
علی یعقوب ابراہیم صالح ابن شہاب عبدالحمید حضرت سعد بن ابی وقاص رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کی (ایک دن) اجازت طلب کی اس وقت کچھ عورتیں قریش کی (یعنی ازواج مطہرات) رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھیں اور باتیں کرنے میں ان کی آوازیں آپ سے بلند ہو رہی تھیں- جب حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے (آپ سے) اجازت طلب کی اور ان عورتوں نے ان کی آواز سنی تو وہ اٹھ کھڑی ہوئیں اور پردہ میں ہو گئیں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو اجازت دی چناچہ وہ اندر آئے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول ﷲ! خدا تعالیٰ آپ کے دانتوں کو ہمیشہ ہنسائے آپ اس وقت کیوں مسکرا رہے ہیں؟ حضور نے فرمایا ان عورتوں کی حالت پر مجھ کو تعجب ہے (میرے پاس بیٹھی ہوئی شور مچار ہی تھیں) تمہاری آواز سنتے ہی پردہ میں چلی گئیں حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا یا رسول ﷲ آپ اس بات کے زیادہ مستحق تھے کہ وہ آپ سے ڈریں پھر حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ان عورتوں کو مخاطب کر کے کہا اے اپنی جان کی دشمن عورتو! کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں انہوں نے کہا ہاں تم سے اس لئے ڈرتی ہیں کہ تم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی بنسبت عادت کے سخت اور سخت گو ہو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا! اے خطاب کے بیٹے کوئی اور بات کرو ان کو چھوڑو مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جب تم سے شیطان کسی راستہ میں چلتے ہوئے ملتا ہے تو وہ تمہارے راستہ کو چھوڑ کر کسی اور راہ پر چلنے لگتا ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment