کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
حضرت عثمان بن عفان رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے بیعت کرنے پر سب کے متفق ہونے کا بیان
حدیث نمبر
3435
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ حَجَّ الْبَيْتَ فَرَأَی قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ مَنْ هَؤُلَائِ الْقَوْمُ فَقَالُوا هَؤُلَائِ قُرَيْشٌ قَالَ فَمَنْ الشَّيْخُ فِيهِمْ قَالُوا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ يَا ابْنَ عُمَرَ إِنِّي سَائِلُکَ عَنْ شَيْئٍ فَحَدِّثْنِي هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ وَلَمْ يَشْهَدْ قَالَ نَعَمْ قَالَ تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ تَعَالَ أُبَيِّنْ لَکَ أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ کَانَتْ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَتْ مَرِيضَةً فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَکَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ کَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَکَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ مَکَانَهُ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ وَکَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَی مَکَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَی هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ فَضَرَبَ بِهَا عَلَی يَدِهِ فَقَالَ هَذِهِ لِعُثْمَانَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ اذْهَبْ بِهَا الْآنَ مَعَکَ
موسیٰ ابوعوانہ حصین عمرو بن میمون سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو شہید ہونے سے چند دن پہلے مدینہ منورہ میں دیکھا وہ حذیفہ بن یمان اور عثمان بن حنیف کے پاس کھڑے ہوئے فرما رہے تھے کہ تم دونوں نے جو کیا اچھا نہیں کیا کیا تم کو اس بات کا خیال نہیں آیا؟ کہ تم نے ارض سواد پر اس کی طاقت سے زیادہ خراج مقرر کر دیا ہے ان دونوں نے عرض کیا نہیں، ہم نے اس پر اس قدر خراج مقرر کر دیا جس کی وہ طاقت رکھتے ہے اس میں زیادتی کی کوئی بات نہیں ہے، حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، غور کرو شاید تم نے اس زمین پر اس قدر خراج مقرر کیا ہے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے اس پر انہوں نے عرض کیا کہ نہیں پھر حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اگر خدا تعالیٰ نے مجھے سلامت رکھا تو میں اہل عراق کی بیوہ عورتوں کو اتنا خوش حال کر دونگا کہ میرے بعد وہ کسی کی محتاج نہ رہیں گی عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ چوتھے دن وہ شہید کر دیئے گئے نیز عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ جس دن آپ شہید ہوئے میں کھڑا ہوا تھا میرے اور ان کے درمیان بجز عبد ﷲ بن عباس کے اور کوئی دوسرا نہیں تھا اور آپ دو صفوں کے بیچ میں سے گزرتے تھے تو صف سیدھی کرنے کی تلقین کرتے جاتے تھے یہاں تک کہ جب صفوں میں کچھ خلل نہ دیکھتے تو آگے بڑھتے تھے اور اکثر سورہ یوسف یا سورہ نحل یا ایسی کوئی صورت پہلی ركعت میں پڑھا کرتے تھے، تا کہ سب لوگ جمع ہو جائیں جیسے ہی آپ نے تکبیر کہی (ایک شخص نے آپ کو زخمی کر دیا) میں نے آپ کو کہتے سنا مجھے کتے نے قتل کر ڈالا یا کاٹ کھایا، جب وه غلام دو دھاری چھری لئے هوئے بھاگا تو دائیں بائیں جدهر بھی جاتا لوگوں کو اس سے مارتا، اس نے تیره آدمیوں کو زخمی كیا، ان میں سات تو مر گئے اس کو ایک مسلمان نے دیکھا اس نے اپنا لبما کوٹ اس پر ڈال دیا پھر اس غلام کو خیال ہوا کہ وہ گرفتار کر لیا جائے، تو اس نے اسی خنجر سے خودکشی کر لی، حضرت عمر عبدالرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑ کر ان کو آگے کیا جو شخص اس وقت حضرت عمر کے قریب تھا وه ان باتوں کو دیکھ رہا تھا جو میں نے دیکھیں اور جو لوگ مسجد کے کنارے پر کھڑے تھے ان کو کچھ معلوم نہ هوا انهوں نے صرف حضرت عمر کی آواز نہ سنی اور وه سبحان الله! سبحان الله! کہتے تھے، پھر ان لوگوں کو عبدالرحمن بن عوف نے جلد جلد نماز پڑھائی، جب لوگ نماز سے فارغ هوئے تو حضرت عمر نے فرمایا، ابن عباس! دیکھو تو مجھ پر کون حمله آور ہوا ہے؟ وه تھوڑی دیر تک ادھر ادھر دیکھتے رهے، پھرانهوں نے کہا مغیره کے غلام نے آپ پر حمله کیا ہے، حضرت عمر نے دریافت کیا، کیا اس کاریگر نے؟ حضرت ابن عباس نے جواب دیا جی ہاں! تو حضرت عمر نے فرمایا، خدا تعالی اس کو غارت کرے میں نے تو اس کو ایک مناسب بات بتائی تھی، خدا تعالی کا شکر ہے که اس نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر نهیں کی جو اسلام کے پیرو هونے کا دعوی کرتا هو، بلاشبه تم اور تمهارے والد ماجد اس بات کو پسند کرتے تھے که مدینه منوره میں غلام بہت ہو جائیں، حضرت عباس کے پاس سب سے زیاده غلام تھے، ابن عباس نے کہا اگر تم چاہو تو میں ایسا کروں، اگر چاہو تو میں انکو قتل کر دوں، حضرت عمر بولے تو جھوٹ بولتا ہے کیونکہ جب وه تمهاری زبان میں گفتگو کرنے لگے اور تمهارے قبله کی طرف نماز پڑھنے لگے اور تمهاری طرح حج کرنے لگے، تو پھر تم انکو قتل نہیں کر سکتے، پھر حضرت عمر کو ان كے گھر لے جایا گیا لوگوں کے رنج و الم کا یه حال تھا که گویا ان کو اس دن سے پہلے کوئی مصیبت هی نه پہنچی تھی، کوئی کہتا فکر کی کچھ بات نہیں اچھے ہوجائیں گے، اور کوئی کہتا مجھے ان کی زندگی کی کوئی آس نہیں ہے پھر چھواروں کا بھیگا هوا پانی لایا گیا، حضرت عمر نے اسکو نوش فرمایا، تو وه ان کے پیٹ سے نکل گیا، اس کے بعد دودھ لایا گیا انهوں نے نوش فرمایا تو وه بھی شکم مبارک سے نکل گیا، لوگوں نے سمجھ لیا که وه اب زنده نه رهیں گے، پھر هم سب آپ کی خدمت میں حاضر هوئے، وهاں اور لوگ بھی آ رهے تھے، اکثر لوگ آپ کی تعریف کرنے لگے پھر ایک جوان شخص آیا اس نے کها اے امیرالمومنین! آپ کو خدا تعالی کی جانب سے خوشخبری ہو اس لئے که آپ کو رسول الله صلی الله علیه وسلم کی صحبت اور اسلام قبول کرنے میں تقدم حاصل هوا جس کو آپ خود بھی جانتے ہیں، جب آپ خلیفه بنائے گئے تو آپ نے انصاف کیا اور آخرکار شهادت پائی، حضرت عمر نے فرمایا میں چاهتا هوں که یه سب باتیں مجھ پر برابر ہو جائیں نه عذاب ہو نه ثواب جب وه شخص لوٹا تو اس کا تہبند زمین پرلٹک رها تھا.حضرت عمر نے فرمایا اس لڑکے کو میرے پاس لاؤ چنانچه وه لایا گیا تو آپ نے فرمایا اے بھتیجے اپنا کپڑا اونچا کر که یه بات کپڑے کو صاف رکھے گی اور خدا کو بھی پسند ہے، پھر آپ نے اپنے بیٹے عبدالله سے کہا دیکھو مجھ پر لوگوں کا کتنا قرض ہے؟ لوگوں نے حساب لگایا، تو تقریبا چھیاسی هزار قرضه تھا، فرمایا اگر اس قرض کی ادائیگی کے لئے عمر کی اولاد کا مال کافی ہو تو انهی کے مال سے اسے ادا کرنا، وگرنہ پھر بنی عدی بن کعب سے مانگنا اگر ان کا مال بھی ناکافی ہو تو قریش سے طلب کر لینا، اس كے سوا کسی اور سے قرض لے کر میرا قرض ادا نہ کرنا ام المومنین حضرت عائشہ کی خدمت میں جاؤ اور کہو کہ عمر آپ کو سلام کہتا ہے امیرالمومنین نہ کہنا کیونکہ اب میں امیر نہیں ہوں، اور کہنا کہ عمر بن خطاب آپ سے اس بات کی اجازت مانگتا ہے کہ وہ اپنے دوستوں یعنی نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اور ابوبکر کے پہلو میں دفن کیا جائے چناچہ عبد ﷲ بن عمر نے پہنچ کر سلام کے بعد اندر آنے کی اجازت چاہی (اجازت ملنے پر) اندر گئے تو ام المومنین کو روتے ہوئے دیکھا حضرت ابن عمر نے عرض کیا عمر بن خطاب سلام کہتے ہیں اور اس بات کی اجازت چاہتے ہیں کہ اپنے دوستوں کے پاس دفن کئے جائیں حضرت عائشہ نے فرمایا اس جگہ کو میں نے اپنے لیے اٹھا رکھا تھا مگر اب میں ان کو اپنی ذات پر ترجیح دیتی ہوں جب عبد ﷲ بن عمر واپس آئے تو حضرت عمر نے فرمایا کہ مجھے اٹھاؤ تو ایک شخص نے ان کو اپنے سہارے لگا کر بٹھا دیا حضرت عمر نے دریافت کیا کہ کیا جواب لائے ہو؟ انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین وہی جو آپ چاہتے ہیں حضرت عائشہ نے اجازت دے دی ہے حضرت عمر نے فرمایا کہ خدا کا شکر ہے میں کسی چیز کو اس سے زیادہ اہم خیال نہ کرتا تھا پس جب میں مر جاوں تو مجھے اٹھانا اور پھر حضرت عائشہ کو سلام کر کے کہنا کہ عمر بن خطاب اجازت چاہتا ہے اگر وہ اجازت دے دیں تو مجھے سونپ دینا اور اگر وہ واپس کر دیں تو مجھ کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا اور اس کے بعد ام المومنین حضرت حفصہ تشریف لائیں اور ان کے ساتھ اور عورتیں بھی آئیں جب ہم نے ان کو دیکھا تو ہم لوگ اٹھ گئے وہ تمام حضرت عمر کے پاس آئیں اور ان کے پاس تھوڑی دیر بیٹھ کر روئیں جب مردوں نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو وہ عورتیں مکان میں چلی گئیں پھر ہم نے ان کے رونے کی آواز سنی لوگوں نے عرض کیا امیرالمومنین کچھ وصیت فرمائیں اور کسی کو خلیفہ بنا دیں حضرت عمر نے کہا کہ میرے نزدیک ان لوگوں سے زیادہ کوئی خلافت کا مستحق نہیں ہے جن سے رسول ﷲ انتقال کے وقت راضی تھے پھر آپ نے حضرت علی، عثمان، زبیر، طلحہ، سعد، عبدالرحمن بن عوف کا نام لیا اور فرمایا کہ عبد ﷲ بن عمر تمہارے پاس حاضر رہا کریں گے مگر خلافت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے آپ نے یہ جملہ ابن عمر کی تسلی کے لیے کہا اور فرمایا کہ اگر خلافت سعد کو مل جائے تو وہ حقیقتا اس کے حق دار ہیں ورنہ جو شخص بھی خلیفہ بنے وہ ان سے امور خلافت میں مدد لے میں نے ان کو ناقابلیت اور خیانت کی بنا پر معزول نہیں کیا تھا آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے بعد جو خیلفہ مقرر ہو اس کو وصیت کرتا ہوں کہ مہاجرین کا اولین حق سمجھے، ان کی عزت کی نگہداشت کرے اس کو انصار کے ساتھ بھلائی کی بھی وصیت کرتا ہوں جو دارالہجرت دارالایمان میں مہاجرین سے پہلے سے مقیم ہیں خلیفہ کو چاہیے کہ ان میں سے نیک لوگوں کی نیکوکاری کو بنظر استحسان دیکھے اور ان کے خطا کار لوگوں کی خطا سے در گزر کرے، نیز میں اس کو تمام شہروں کے مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتا ہوں اس لیے کہ وہ لوگ اسلام کی پشت وپناہ ہیں وہی مال غنیمت حاصل کرنے والے اور دشمن کو تباہ کرنے والے ہیں، اور وصیت کرتا ہوں کہ ان سے ان کی رضا مندی سے اس قدر مال لیا جائے جو ان کی ضروریات زندگی سے زائد ہو میں اس کو اعراب کے ساتھ نیکی کرنے کی وصیت کرتا ہوں اس لیے کہ وہی اصل عرب اور مادہ اسلام ہیں اور ان کی (ضروریات سے) زائد مال لے جائیں اور ان کے فقراء پر تقسیم کر دیں میں اس کو خدا تعالی اور رسول کے ذمہ کی وصیت کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ ان کا عہد پورا کیا جائے اور ان کی حمایت میں پرزور جنگ کی جائے، اور ان سے ان کی طاقت سے زیادہ کام نہ لیا جائے، جب ان کی وفات ہو گئی تو ہم لوگ ان کو لیے جا رہے تھے کہ عبد ﷲ بن عمر نے جا کر حضرت عائشہ کو سلام کیا اور کہا کہ عمر بن خطاب اجازت مانگتے ہیں حضرت عائشہ نے کہا کہ ان کو داخل کر دو چناچہ وہ لائے گئے اور وہاں اپنے دوستوں کے پہلو میں دفن کیے گئے ان کے دفن کیے جانے کے بعد وہ لوگ جو حضرت عمر کی نظر میں خلافت کے مستحق تھے جمع ہوئے، حضرت عبدالرحمن نے کہا کہ اس معاملہ کو صرف تین شخصوں پر چھوڑ دو جس پر زبیر بن عوام نے کہا کہ میں نے اپنا حق حضرت علی کے سپرد کیا حضرت طلحہ نے کہا کہ میں نے اپنا حق حضرت عثمان کو سونپ دیا اور حضرت سعد نے کہا کہ میں نے اپنا حق حضرت عبدالرحمن بن عوف کو دیےدیا پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف نے حضرت علی اور حضرت عثمان سے کہا تم دونوں میں سے جو شخص اس سے برات کا اظہار کرے گا ہم خلافت اسی کے سپرد کریں گے اور اس پر ﷲ اور اسلام کے حقوق کی نگہداشت لازم ہو گی ہر ایک کو غور کرنا چاہیے کہ اس کے خیال میں کون شخص افضل ہے اسی کو خلیفہ کر دے، اس پر شیخین یعنی عثمان و علی نے سکوت کیا جب یہ حضرات چپ رہے تو عبدالرحمن نے کہا کیا تم دونوں خلیفہ کے انتخاب کا مسئلہ میرے حوالے کرتے ہو بخدا مجھ پر لازم ہے کہ میں تم سے افضل کے ساتھ کوتاہی نہ کروں دونوں نے کہا یہ مسئلہ آپ کے حوالے کیا جاتا ہے عبدالرحمن نے دونوں میں سے ایک یعنی حضرت علی کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ تم کو رسول ﷲ کی قرابت اور اسلام میں قدامت حاصل ہے، جو تم کو معلوم ہے خدا کے واسطے تم پر لازم ہے اگر میں تمہیں خلیفہ بنا دوں تو تم عدل وانصاف کرنا اور اگر میں عثمان کو خلیفہ بنا دوں تو اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا اس کے بعد حضرت عثمان کا ہاتھ پکڑا اور ان سے بھی ایسا ہی کہا چناچہ عبدالرحمن نے عہد لیا پھر کہا، اے عثمان اپنا ہاتھ اٹھاؤ عبدالرحمن نے اور ان کے بعد علی نے ان سے بیعت کی پھر تم مدینہ والوں نے حاضر ہو کر حضرت عثمان سے بیعت کی۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment