Sunday, April 17, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:902,Total no:3438


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
حضرت ابوالحسن علی بن ابی طالب قرشی ہاشمی کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر
3438
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فَقَالَ هَذَا فُلَانٌ لِأَمِيرِ الْمَدِينَةِ يَدْعُو عَلِيًّا عِنْدَ الْمِنْبَرِ قَالَ فَيَقُولُ مَاذَا قَالَ يَقُولُ لَهُ أَبُو تُرَابٍ فَضَحِکَ قَالَ وَاللَّهِ مَا سَمَّاهُ إِلَّا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا کَانَ لَهُ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهُ فَاسْتَطْعَمْتُ الْحَدِيثَ سَهْلًا وَقُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ کَيْفَ ذَلِکَ قَالَ دَخَلَ عَلِيٌّ عَلَی فَاطِمَةَ ثُمَّ خَرَجَ فَاضْطَجَعَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ ابْنُ عَمِّکِ قَالَتْ فِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَوَجَدَ رِدَائَهُ قَدْ سَقَطَ عَنْ ظَهْرِهِ وَخَلَصَ التُّرَابُ إِلَی ظَهْرِهِ فَجَعَلَ يَمْسَحُ التُّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ فَيَقُولُ اجْلِسْ يَا أَبَا تُرَابٍ مَرَّتَيْنِ
عبد ﷲ بن مسلمہ عبدالعزیز بن ابی حازم حضرت ابوحازم سے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سہل بن سعد کے پاس آ کر کہا فلاں شخص امیر مدینہ حضرت علی کو برسر منبر برا کہتا ہے حضرت سہل نے پوچھا وہ کیا استعمال کرتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ وہ ان کو ابوتراب کہتا ہے تو سہل رضی ﷲ تعالیٰ عنہ ہنسے اور کہا خدا کی قسم ان کا یہ نام تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے رکھا ہے، اور جس قدر یہ نام ان کو پسند تھا اور کوئی نام پسند نہیں تھا پھر میں نے پوری حدیث سہل رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے دریافت کی میں نے عرض کیا، اے ابوالعباس! یہ واقعہ کیسے ہوا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ (ایک روز) حضرت فاطمہ کے پاس حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تھوڑی دیر کو گئے اور پھر باہر نکل کر مسجد میں آ کر لیٹ گئے تو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے (حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے) دریافت کیا تمہارے چچا کے بیٹے کہاں ہیں، انہوں نے کہا مسجد میں پس آپ ان کے پاس (مسجد میں) تشریف لے گئے تو دیکھا کہ ان کی چادر پیٹھ سے سرک گئی ہے اور ان کی پیٹھ پر مٹی ہی مٹی تھی آپ مٹی پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے اے ابوتراب اٹھ بیٹھو دو مرتبہ آپ نے یہی فرمایا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment