کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
آب زم زم کا بیان۔
حدیث نمبر
3267
حَدَّثَنَا زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَخْزَمَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنِي مُثَنَّی بْنُ سَعِيدٍ الْقَصِيرُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ قَالَ قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِإِسْلَامِ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قُلْنَا بَلَی قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ کُنْتُ رَجُلًا مِنْ غِفَارٍ فَبَلَغَنَا أَنَّ رَجُلًا قَدْ خَرَجَ بِمَکَّةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَقُلْتُ لِأَخِي انْطَلِقْ إِلَی هَذَا الرَّجُلِ کَلِّمْهُ وَأْتِنِي بِخَبَرِهِ فَانْطَلَقَ فَلَقِيَهُ ثُمَّ رَجَعَ فَقُلْتُ مَا عِنْدَکَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ وَيَنْهَی عَنْ الشَّرِّ فَقُلْتُ لَهُ لَمْ تَشْفِنِي مِنْ الْخَبَرِ فَأَخَذْتُ جِرَابًا وَعَصًا ثُمَّ أَقْبَلْتُ إِلَی مَکَّةَ فَجَعَلْتُ لَا أَعْرِفُهُ وَأَکْرَهُ أَنْ أَسْأَلَ عَنْهُ وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِ زَمْزَمَ وَأَکُونُ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ فَمَرَّ بِي عَلِيٌّ فَقَالَ کَأَنَّ الرَّجُلَ غَرِيبٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَانْطَلِقْ إِلَی الْمَنْزِلِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ لَا يَسْأَلُنِي عَنْ شَيْئٍ وَلَا أُخْبِرُهُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَی الْمَسْجِدِ لِأَسْأَلَ عَنْهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ يُخْبِرُنِي عَنْهُ بِشَيْئٍ قَالَ فَمَرَّ بِي عَلِيٌّ فَقَالَ أَمَا نَالَ لِلرَّجُلِ يَعْرِفُ مَنْزِلَهُ بَعْدُ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ انْطَلِقْ مَعِي قَالَ فَقَالَ مَا أَمْرُکَ وَمَا أَقْدَمَکَ هَذِهِ الْبَلْدَةَ قَالَ قُلْتُ لَهُ إِنْ کَتَمْتَ عَلَيَّ أَخْبَرْتُکَ قَالَ فَإِنِّي أَفْعَلُ قَالَ قُلْتُ لَهُ بَلَغَنَا أَنَّهُ قَدْ خَرَجَ هَا هُنَا رَجُلٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَأَرْسَلْتُ أَخِي لِيُکَلِّمَهُ فَرَجَعَ وَلَمْ يَشْفِنِي مِنْ الْخَبَرِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَلْقَاهُ فَقَالَ لَهُ أَمَا إِنَّکَ قَدْ رَشَدْتَ هَذَا وَجْهِي إِلَيْهِ فَاتَّبِعْنِي ادْخُلْ حَيْثُ أَدْخُلُ فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ أَحَدًا أَخَافُهُ عَلَيْکَ قُمْتُ إِلَی الْحَائِطِ کَأَنِّي أُصْلِحُ نَعْلِي وَامْضِ أَنْتَ فَمَضَی وَمَضَيْتُ مَعَهُ حَتَّی دَخَلَ وَدَخَلْتُ مَعَهُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ اعْرِضْ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ فَعَرَضَهُ فَأَسْلَمْتُ مَکَانِي فَقَالَ لِي يَا أَبَا ذَرٍّ اکْتُمْ هَذَا الْأَمْرَ وَارْجِعْ إِلَی بَلَدِکَ فَإِذَا بَلَغَکَ ظُهُورُنَا فَأَقْبِلْ فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَجَائَ إِلَی الْمَسْجِدِ وَقُرَيْشٌ فِيهِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَقَالُوا قُومُوا إِلَی هَذَا الصَّابِئِ فَقَامُوا فَضُرِبْتُ لِأَمُوتَ فَأَدْرَکَنِي الْعَبَّاسُ فَأَکَبَّ عَلَيَّ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ وَيْلَکُمْ تَقْتُلُونَ رَجُلًا مِنْ غِفَارَ وَمَتْجَرُکُمْ وَمَمَرُّکُمْ عَلَی غِفَارَ فَأَقْلَعُوا عَنِّي فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحْتُ الْغَدَ رَجَعْتُ فَقُلْتُ مِثْلَ مَا قُلْتُ بِالْأَمْسِ فَقَالُوا قُومُوا إِلَی هَذَا الصَّابِئِ فَصُنِعَ بِي مِثْلَ مَا صُنِعَ بِالْأَمْسِ وَأَدْرَکَنِي الْعَبَّاسُ فَأَکَبَّ عَلَيَّ وَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ بِالْأَمْسِ قَالَ فَکَانَ هَذَا أَوَّلَ إِسْلَامِ أَبِي ذَرٍّ
زید ابوقتیبہ اسلم مثنیٰ ابوجمرہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ہم سے کہا میں تم سے ابوذر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے اسلام کا واقعہ بیان کرتا ہوں ہم نے کہا ضرور بیان فرمایئے چناچہ حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ابوذر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے تھے میں قبیلہ غفار کا آدمی ہوں ہم کو خبر پہنچی کہ مکہ میں ایک شخص ظاہر ہوا ہے جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے- میں نے اپنے بھائی سے کہا کہ تم اس شخص کے پاس جا کر بات چیت کرو- اور مجھے اس کی خبر دو پس وہ گئے اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرنے کے بعد لوٹ کر آئے- میں نے اپنے بھائی سے دریافت کیا- کیا خبر لائے؟ جواب دیا! بخدا میں نے ایک ایسے جوان مرد کو دیکھا جو نیکی کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں میں نے کہا مجھے اتنی سی خبر سے تسکین نہیں ہوئی- میں نے خود ناشتہ اور لاٹھی لی اور مکہ کی طرف چل دیا اور مکہ میں داخل ہو کر سخت پریشان ہوا کیونکہ حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کو پہچانتا نہیں تھا اور نہ ہی یہ مناسب سمجھا کہ (کسی سے) آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں پوچھوں میں نے اپنا معمول کر لیا تھا زم زم کا پانی پی لیتا اور کعبہ میں رہتا ایک دفعہ میری طرف سے حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ گزرے اور انہوں نے کہا (یہ شخص) مسافر ہے؟ میں نے کہاں ہاں تو انہوں نے مجھ سے کہا (ہمارے) مکان چلو! میں ان کے ساتھ چل دیا راستہ بھر نہ انہوں نے مجھ سے کوئی بات پوچھی اور نہ میں نے ان سے کچھ بیان کیا جب صبح ہوئی تو میں کعبہ میں گیا تاکہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو (کسی سے) دریافت کروں اور کوئی مجھ سے آپ کے حالات بیان کرے دوبارہ پھر میری طرف علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا گذر ہوا انہوں نے کہا ابھی تک تمہارے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ تم اپنی جائے قیام کو پہچانو؟ میں نے کہا نہیں حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا میرے ساتھ چلو پھر علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے (مجھ سے کہا) یہاں مکہ میں تم کیوں آئے؟ میں نے کہا اگر تم میرے راز کو ظاہر نہ کرو تو تم سے کہتا ہوں علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا میں رازدار ہی رہوں میں نے ان سے کہا کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ یہاں ایسے شخص ظاہر ہوئے جو نبوت کے مدعی ہیں اگرچہ میں نے اپنے بھائی کو بھیجا تھا تاکہ وہ ان سے بات چیت کر کے امر واقعی کی مجھے اطلاع دیں- مگر انہوں نے لوٹ کر کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا- اس لئے میں خود ہی ان سے ملنا چاہتا ہوں علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا! بس اتنی سی بات تو خوش ہو جاؤ کہ تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے میں خود ان کے پاس جارہا ہوں تم میرے ساتھ چلو جہاں میں جاؤں وہاں تم بھی جانا اگر میں کسی ایسے آدمی کو دیکھوں گا جس سے تم کو کچھ اندیشہ ہو تو میں کسی دیوار کے پاس کھڑا ہو جاؤں گا اور یہ معلوم ہو گا کہ اپنا جوتا درست کر رہا ہوں خبر دار تم میرے ساتھ کھڑے نہ ہونا بلکہ آگے نکل جانا چناچہ میں علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھ چل دیا اور ان کے ساتھ حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے دولت اسلام سے سرفراز فرمایئے چناچہ سرور عالم صلی ﷲ علیہ وسلم نے مجھے مسلمان کیا اور فرمایا ابوذر اس بات کو پوشیدہ رکھو اور اپنے شہر کی طرف واپس جاؤ پھر جب ہمارے غلبہ کی تم کو خبر پہنچے تو آ جانا میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو سچا رسول بنا کر بھیجا ہے میں اس بات کو لوگوں میں پکار کر کہوں گا چناچہ ابوذر نے کعبہ میں قریش سے کہا! اے قریشیو! میں گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں قریش نے کہا اس بے دین کی کھڑے ہو کر خبر لو اور وہ مارنے کے لئے تیار ہو گئے اور مار مار کر ادھ موا کر دیا حضرت عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے مجھے دیکھا خود کو میری ڈھال بنا لیا اور کافروں سے کہا تمہاری خرابی ہو (قبیلہ) غفار کے آدمی کو قتل کئے دیتے ہو حالانکہ تمہاری تجارتی منڈی اور راستہ غفار ہی کی طرف سے ہے- یہ سن کر وہ باز آ گئے پھر جب صبح ہوئی تو میں نے کعبہ میں جا کر ویسا ہی کہا جیسا کہ کل کہا تھا پھر انہوں نے کہا اس بے دین کی کھڑے ہو کر خبر لو! چناچہ میرے ساتھ وہی ہوا جو کل ہوا تھا پھر عباس نے دیکھا اور مجھے ان سے بچا کر کل کی طرح بات چیت کی ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ابوذر کے اسلام کی یہ پہلی منزل ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment