کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا دوست بنایا۔
حدیث نمبر
3121
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ قَالَ لَيْسَ کَمَا تَقُولُونَ لَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ بِشِرْکٍ أَوَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَی قَوْلِ لُقْمَانَ لِابْنِهِ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِکْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
عمر بن حفص بن غیاث ان کے والد اعمش ابراہیم علقمہ حضرت عبد ﷲ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آیت کریمہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ مخلوط نہیں کیا نازل ہوئی تو ہم نے کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ہم میں ایسا کون ہے جس نے اپنے اوپر (گناہ کر کے) ظلم نہیں کیا فرمایا یہ بات تمہارے خیال کے مطابق نہیں ہے بلکہ ( لَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ) میں ظلم سے مراد شرک ہے کیا تم نے لقمان کی بات جو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہی تھی نہیں سنی کہ( اے میرے بیٹے ﷲ کے ساتھ شرک نہ کرنا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے)-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment