کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ خیبر کا بیان
حدیث نمبر
3889
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی خَيْبَرَ فَسِرْنَا لَيْلًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ لِعَامِرٍ يَا عَامِرُ أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِکَ وَکَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَائً لَکَ مَا أَبْقَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَکِينَةً عَلَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَبَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا السَّائِقُ قَالُوا عَامِرُ بْنُ الْأَکْوَعِ قَالَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ وَجَبَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوْلَا أَمْتَعْتَنَا بِهِ فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّی أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ فَلَمَّا أَمْسَی النَّاسُ مَسَائَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا کَثِيرَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَی أَيِّ شَيْئٍ تُوقِدُونَ قَالُوا عَلَی لَحْمٍ قَالَ عَلَی أَيِّ لَحْمٍ قَالُوا لَحْمِ حُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْرِيقُوهَا وَاکْسِرُوهَا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ أَوْ ذَاکَ فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ کَانَ سَيْفُ عَامِرٍ قَصِيرًا فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ فَأَصَابَ عَيْنَ رُکْبَةِ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا قَفَلُوا قَالَ سَلَمَةُ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي قَالَ مَا لَکَ قُلْتُ لَهُ فَدَاکَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَذَبَ مَنْ قَالَهُ إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَی بِهَا مِثْلَهُ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ قَالَ نَشَأَ بِهَا
عبد ﷲ بن مسلمہ، حاتم بن اسماعیل، یزید بن ابی عبید، سلمہ بن اکوع سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی جانب (جنگ کے ارادہ سے) چلے ہم رات میں جارہے تھے کہ ایک شخص نے عامر سے کہا کہ تم ہمیں اپنے اشعار کیوں نہیں سناتے عامر ایک شاعر آدمی تھے (یہ سن کر) وہ نیچے اترے اور اس طرح حدی خوانی کرنے لگے- اے خدا اگر تیرا حکم نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے، نہ صدقے دیتے اور نہ نماز پڑھتے، ہم تیرے نبی اور دین کے اوپر قربان ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما اور جنگ میں ثابت قدم رکھ- اور ہمیں سکون کی دولت سے نواز جب ہمیں (باطل کی طرف) بلایا جائے گاتو ہم انکار کردیں گے اور کافر غل مچا کر ہمارے خلاف اتر آئے ہیں- تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ حدی خوان کون ہے؟ صحابہ نے عرض کیا عامر بن اکوع۔ آپ نے فرمایا ﷲ اس پر رحم کرے تو جماعت میں سے ایک آدمی (حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ) نے عرض کیا یا رسول ﷲ! اب یہ جنت یا شہادت کا مستحق ہوگیا آپ نے ہمیں اس سے منتفع ہونے دیا ہوتا پھر ہم خیبر پہنچ گئے تو ہم نے یہودیوں کا محاصرہ کرلیا حتیٰ کہ ہمیں سخت بھوک لگی پھر ﷲ تعالیٰ نے خیبر میں مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی فتح کے دن مسلمانوں نے شام کو (کچھ پکانے کے لئے) خوب آگ سلگائی تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ کیسی آگ ہے اور تم لوگ اس پر کیا چیز پکا رہے ہو؟ عرض کیا گیا گوشت اور دریافت فرمایا کس کا گوشت؟ عرض کیا پالتوں گدھوں کا گوشت آپ نے فرمایا پھینکدو اور ہانڈیوں کو توڑ دو، ایک شخص نے عرض کیا یا رسول ﷲ! کیا ہم (گوشت) پھینک کر ہانڈیاں دھو ڈالیں- آپ نے فرمایا ہاں یا ایسا کرلو جب قوم کی صف بندی ہوئی (اور لڑائی شروع ہوئی تو چونکہ) عامر کی تلوار چھوٹی تھی انہوں نے ایک یہودی کی پنڈلی پر تلوار ماری (لیکن) اس کی دھار پلٹ کر ان کے گھٹنے کی چکتی میں لگی اور اسی سے ان کی وفات ہو گئی سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب واپسی ہوئی تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے جو میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے مجھے (کچھ مغموم) دیکھا تو فرمایا تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ عامر کے عمل اکارت گئے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو ایسا کہتا ہے وہ جھوٹا ہے اور آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر فرمایا کہ اسے دو گنا اجر ملے گا وہ تو کشش کرنے والا مجاہد تھا بہت کم مدینہ میں چلنے والے عربی اس جیسے ہیں قتیبہ نے بواسطہ حاتم یہ الفاظ روایت کئے ہیں نشابھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment