کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ حدیبیہ کا قصہ
حدیث نمبر
3882
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَصِينٍ قَالَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ لَمَّا قَدِمَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ مِنْ صِفِّينَ أَتَيْنَاهُ نَسْتَخْبِرُهُ فَقَالَ اتَّهِمُوا الرَّأْيَ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ لَرَدَدْتُ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ وَمَا وَضَعْنَا أَسْيَافَنَا عَلَی عَوَاتِقِنَا لِأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَی أَمْرٍ نَعْرِفُهُ قَبْلَ هَذَا الْأَمْرِ مَا نَسُدُّ مِنْهَا خُصْمًا إِلَّا انْفَجَرَ عَلَيْنَا خُصْمٌ مَا نَدْرِي کَيْفَ نَأْتِي لَهُ
حسن بن اسحاق، محمد بن سابق، مالک بن مغول، ابوحصین، ابووائل، شفیق بن سلمہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ جب سہل بن حنیف جنگ صفین سے واپس آئے تو ہم ان کی واپسی کا سبب معلوم کرنے گئے تو انہوں نے کہا کہ بھائی اپنی رائے پر ناز مت کرو ایک وہ بھی دن تھا کہ میں اتنا مستعد تھا کہ ابوجندل کی واپسی پر کبھی راضی نہ ہوتا اور اگر قدرت رکھتا تو حکم رسول خدا صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو نہ مانتا اور چھی طرح لڑتا یہ بات ﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم خوب جانتے ہیں کہ ہم نے جب کبھی کسی مہم پر تلوار اٹھائی تو وہ کام آسان ہوگیا غرض اس جنگ سے پہلے جب بھی تلوار اٹھائی تو ہم اسے اپنے لئے اچھا ہی جانتے تھے (مگر اس جنگ صفین) کا عجیب حال ہے کہ ہم ایک کام کو سنبھالتے ہیں تو دوسرا بگڑ جاتا ہے ہم حیران ہیں کہ اس کے انسداد کی کیا تدبیر کریں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment