کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ خیبر کا بیان
حدیث نمبر
3924
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ وَسَأَلَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ قَالَ أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ قَالَ لَهُ بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ لَا تُعْطِهِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ فَقَالَ وَا عَجَبَاهْ لِوَبْرٍ تَدَلَّی مِنْ قَدُومِ الضَّأْنِ وَيُذْکَرُ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَانَ عَلَی سَرِيَّةٍ مِنْ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَدِمَ أَبَانُ وَأَصْحَابُهُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ مَا افْتَتَحَهَا وَإِنَّ حُزْمَ خَيْلِهِمْ لَلِيفٌ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَقْسِمْ لَهُمْ قَالَ أَبَانُ وَأَنْتَ بِهَذَا يَا وَبْرُ تَحَدَّرَ مِنْ رَأْسِ ضَأْنٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَانُ اجْلِسْ فَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ
علی بن عبدﷲ، سفیان، زہری، اسمٰعیل بن امیہ نے زہری سے پوچھا تو انہوں نے اس طرح سند بیان کی کہ عنبسہ بن سعید، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے سوال کیا کہ غنیمت خیبر میں سے مجھے بھی حصہ ملے تو سعید بن عاص کے کسی لڑکے نے کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم! ابوہریرہ کو حصہ نہ دیجئے ، ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا اسی کو نہ دیجئے کیونکہ یہ ابن قوقل کا قاتل ہے تو اس نے کہا تعجب ہے اس اوبلے پر جو کوہ ضان کی چوٹیوں سے ابھی اتر کر آیا ہے، زبیدی ،زہری، عنبسہ بن سعید، ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ، سعید بن عاص سے مذکور ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ابان کو مدینہ سے نجد کی طرف کسی لشکر کا سردار مقررکرکے روانہ کیا تھا ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ خیبر میں فتح خیبر کے بعد ابان اور ان کے ساتھی نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور ان کے گھوڑوں کی پیٹیاں چھال کی تھیں یعنی بے سروسامان تھے تو میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم! انہیں مال غنیمت میں سے حصہ نہ دیجئے تو ابان نے کہا اوبلے جو کوہ ضان کی چوٹیوں سے ابھی اتر کر آیا ہے تو یہ بات کہتا ہے تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ابے ابان بیٹھ جاؤ اور انہیں حصہ نہ دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment