Saturday, May 7, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1338,TotalNo:3874


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ حدیبیہ کا قصہ
حدیث نمبر
3874
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَسِيرُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسِيرُ مَعَهُ لَيْلًا فَسَأَلَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ شَيْئٍ فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ يَا عُمَرُ نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ کُلُّ ذَلِکَ لَا يُجِيبُکَ قَالَ عُمَرُ فَحَرَّکْتُ بَعِيرِي ثُمَّ تَقَدَّمْتُ أَمَامَ الْمُسْلِمِينَ وَخَشِيتُ أَنْ يَنْزِلَ فِيَّ قُرْآنٌ فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي قَالَ فَقُلْتُ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَکُونَ نَزَلَ فِيَّ قُرْآنٌ وَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَرَأَ إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِينًا
عبدﷲ بن یوسف، امام مالک، زید بن اسلم سے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بعض سفروں میں نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم رات کو چلا کرتے تھے اور حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ آپ کے ہمراہ ہوا کرتے تھے چناچہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے آپ سے کوئی بات پوچھی تو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے جواب نہیں دیا، پھر پوچھی پھر جواب نہیں دیا، پھر پوچھی اور پھر جواب نہیں دیا آخر حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اپنے دل میں کہنے لگے اے عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ! تیری ماں تجھ کو روئے تو نے تین دفعہ بات پوچھی اور تجھے آنحضرت نے جواب نہیں دیا۔ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اونٹ کو ایڑ لگائی اور مسلمانوں سے آگے نکل گیا اس خوف سے کہ کہیں میرے متعلق کوئی آیت نہ اترے تھوڑی دیر کے بعد کوئی مجھے پکار رہا تھا میں اور خوف زدہ ہوا کہ شاید میرے حق میں قرآن اترا ہے میں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا آپ نے ارشاد فرمایا کہ رات کو میرے اوپر ایک سورت اتری ہے اور وہ مجھے ان تمام چیزوں سے محبوب ہے جن پر سورج نے طلوع کیا ہے پھر آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے (إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِينًا) تلاوت فرمائی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment