کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ حدیبیہ کا قصہ
حدیث نمبر
3859
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَی السُّوقِ فَلَحِقَتْ عُمَرَ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ فَقَالَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلَکَ زَوْجِي وَتَرَکَ صِبْيَةً صِغَارًا وَاللَّهِ مَا يُنْضِجُونَ کُرَاعًا وَلَا لَهُمْ زَرْعٌ وَلَا ضَرْعٌ وَخَشِيتُ أَنْ تَأْکُلَهُمْ الضَّبُعُ وَأَنَا بِنْتُ خُفَافِ بْنِ إِيْمَائَ الْغِفَارِيِّ وَقَدْ شَهِدَ أَبِي الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَفَ مَعَهَا عُمَرُ وَلَمْ يَمْضِ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِنَسَبٍ قَرِيبٍ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی بَعِيرٍ ظَهِيرٍ کَانَ مَرْبُوطًا فِي الدَّارِ فَحَمَلَ عَلَيْهِ غِرَارَتَيْنِ مَلَأَهُمَا طَعَامًا وَحَمَلَ بَيْنَهُمَا نَفَقَةً وَثِيَابًا ثُمَّ نَاوَلَهَا بِخِطَامِهِ ثُمَّ قَالَ اقْتَادِيهِ فَلَنْ يَفْنَی حَتَّی يَأْتِيَکُمْ اللَّهُ بِخَيْرٍ فَقَالَ رَجُلٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَکْثَرْتَ لَهَا قَالَ عُمَرُ ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَی أَبَا هَذِهِ وَأَخَاهَا قَدْ حَاصَرَا حِصْنًا زَمَانًا فَافْتَتَحَاهُ ثُمَّ أَصْبَحْنَا نَسْتَفِيئُ سُهْمَانَهُمَا فِيهِ
اسمٰعیل بن عبدﷲ، امام مالک، زید بن اسلم، اپنے والد اسلم سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کے ہمراہ بازار گیا وہاں ایک جوان عورت ان کو ملی اور کہنے لگی اے امیرالمومنین میرا شوہر مرچکا ہے اور چھوٹے بچوں کو چھوڑ گیا ہے ﷲ کی قسم! اتنا بھی نہیں ہے کہ میں بچوں کے لئے کھانا پکا سکوں نہ کوئی کھیتی اور دودھ والا جانور ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں قحط کی وجہ سے وہ مر نہ جائیں اور میں خفاف بن ایما غفاری کی لڑکی ہوں اور میرے والد حدیبیہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ سن کر فرمایا مرحبا! تمہارا خاندان تو میرے خاندان سے ملتا ہوا ہے اس کے بعد آپ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک اونٹ پر اناج دو بوریاں اور ان کے درمیان کپڑے اور روپے رکھ کر اونٹ کی رسی عورت کے ہاتھ میں دے دی اور فرمایا یہ لے جاؤ مجھے امید ہے کہ اس کے ختم ہونے سے پہلے ﷲ تعالیٰ اس سے بہتر تم کو عطا کردے گا ایک شخص نے اس کیفیت کو دیکھ کر کہا آپ نے اسے بہت زیادہ دے دیا آپ نے فرمایا اے تیری ماں تجھے روئے خدا گواہ ہے کہ میں نے اس عورت کے باپ اور اس کے بھائی کو دیکھا ہے کہ انہوں نے کافروں کے ایک قلعہ کو اس وقت تک گھیرے رکھا جب تک وہ فتح نہ ہوا پھر صبح مال غنیمت سے ان دونوں کا حصہ وصول کیا گیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment