کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔
حدیث نمبر
4424
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ يَمْشِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِيمَانُ قَالَ الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِکَتِهِ وَکُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَلِقَائِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلَا تُشْرِکَ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّکَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِحْسَانُ قَالَ الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ کَأَنَّکَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاکَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَی السَّاعَةُ قَالَ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنْ السَّائِلِ وَلَکِنْ سَأُحَدِّثُکَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتْ الْمَرْأَةُ رَبَّتَهَا فَذَاکَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا کَانَ الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ رُئُوسَ النَّاسِ فَذَاکَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنْزِلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ فَقَالَ رُدُّوا عَلَيَّ فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوا فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا فَقَالَ هَذَا جِبْرِيلُ جَائَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ
اسحاق، جریر، ابی حیان، ابی زرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں کھڑے تھے کہ ایک آدمی آیا اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم! ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تو ﷲ پر پورا ایمان رکھتا ہو اس کے فرشتوں، کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھتا ہو اور ﷲ تعالیٰ کی ملاقات کا یقین رکھتا ہو قیامت اور حشر کو پورے طور پر ماننا پھر اس نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا صرف ﷲ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنا، شرک سے محفوظ رہنا، نماز ادا کرنا، زکوۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا، اس کے بعد پھر پوچھا کہ احسان کسے کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تو ﷲ کی عبادت اس طرح کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر یہ نہیں ہو سکتا تو اتنا ہی یقین رکھے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے اس کے بعد پوچھا قیامت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا اس کو میں تم سے زیادہ نہیں جانتا ہاں یہ بتاتا ہوں کہ اس کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ عورت اپنا خاوند جنے گی یعنی بیٹا بڑا ہوکر اس کا خاوند و مالک بنے گا، کمیں اور جھوٹے لوگ بادشاہ بن جائیں گے اس کے بعد فرمایا کہ پانچ باتیں ہیں جن کو صرف ﷲ ہی جانتا ہے، ایک یہ کہ قیامت کب آئے گی؟ دوسرے یہ کہ بارش کب ہوگی؟ عورت کے رحم میں کیا ہے، اس کے بعد وہ آدمی چلا گیا؟ آپ نے فرمایا اسے ذرا واپس لاؤ ہم نے دیکھا مگر نہیں ملا آپ نے فرمایا یہ جبریل تھے- لوگوں کو دین سکھانے آئے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment