کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
تفسیر سورۃ حم السجدہ!
حدیث نمبر
4465
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ کَثِيرَةٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ قَلِيلَةٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ فَقَالَ أَحَدُهُمْ أَتُرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ قَالَ الْآخَرُ يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا وَلَا يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا وَقَالَ الْآخَرُ إِنْ کَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا فَإِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَا أَبْصَارُکُمْ وَلَا جُلُودُکُمْ الْآيَةَ وَکَانَ سُفْيَانُ يُحَدِّثُنَا بِهَذَا فَيَقُولُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ أَوْ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ أَوْ حُمَيْدٌ أَحَدُهُمْ أَوْ اثْنَانِ مِنْهُمْ ثُمَّ ثَبَتَ عَلَی مَنْصُورٍ وَتَرَکَ ذَلِکَ مِرَارًا غَيْرواحِدَةٍ
حمیدی، سفیان، منصور،مجاہد، ابومعمر، عبد ﷲ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ خانہ کعبہ کے پاس دو قریشی اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریشی بیٹھے ہوئے تھے ان کے پیٹ کی چربیاں بہت زیادہ تھیں (یعنی موٹے تھے) لیکن ان کی سمجھ کم تھی ان میں سے ایک نے کہا کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اس کو ﷲ سنتا ہے؟ دوسرے نے کہا کہ اگر ہم بآواز بلند بولتے ہیں تو وہ سن لیتا ہے اور اگر آہستہ بولتے ہیں تو نہیں سنتا ہے دوسرے شخص نے کہا کہ جب وہ اس کو سن لیتا ہے جو ہم بآ اواز بلند بولیں تو اس کو وہ بھی سننا چاہئے جو ہم آہستہ بولیں چناچہ ﷲ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَا أَبْصَارُکُمْ﴾ الخ نازل فرمائی اور سفیان ہم سے اس حدیث کو بیان کرتے تھے تو کہتے تھے کہ ہم سے منصور یا ابن ابی نجیح یا حمید ان میں سے ایک یا دو نے روایت کیا پھر منصور قائم ہو گئے اور ایک سے زیادہ متعدد بار اس کو چھوڑ دیا (آیت) پس اگر وہ صبر کریں تو آگ ان کا ٹھکانا ہے- آخر تک-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment