کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تمہیں کیا ہے؟ کہ تم خدا کے راستہ میں نہیں لڑتے۔
حدیث نمبر
4238
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ تَلَا إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ قَالَ کُنْتُ أَنَا وَأُمِّي مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ وَيُذْکَرُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ حَصِرَتْ ضَاقَتْ تَلْوُوا أَلْسِنَتَکُمْ بِالشَّهَادَةِ وَقَالَ غَيْرُهُ الْمُرَاغَمُ الْمُهَاجَرُ رَاغَمْتُ هَاجَرْتُ قَوْمِي مَوْقُوتًا مُوَقَّتًا وَقْتَهُ عَلَيْهِمْ
سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ایوب ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی ﷲ عنہ نے اس آیت اإِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنْ الرِّجَالِ الآیۃ کو پڑھا اور فرمانے لگے کہ میں اور میری والدہ (ام فضل) کمزوروں میں شامل ہیں ﷲ نے ہم دونوں کو معذور رکھا، حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ''حصرت ضاقت'' کے معنی یہ ہیں کہ ان کے دل تنگ ہیں اور '' تَلْوُوا أَلْسِنَتَکُمْ'' کے معنی ہیں کہ زبان کو پھیر کر گواہی دو اور دوسرے لوگوں نے کہا کہ ''المراغم'' کے معنی ہیں ہجرت کا مقام اور ''موقوتا'' کے معنی ہیں وقت مقررہ-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment