کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم ان لوگوں سے اپنی بہت برائیاں سنو گے۔
حدیث نمبر
4216
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکِبَ عَلَی حِمَارٍ عَلَی قَطِيفَةٍ فَدَکِيَّةٍ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَرَائَهُ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ قَالَ حَتَّی مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ فَإِذَا فِي الْمَجْلِسِ أَخْلَاطٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِکِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ وَالْمُسْلِمِينَ وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَلَمَّا غَشِيَتْ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَی اللَّهِ وَقَرَأَ عَلَيْهِمْ الْقُرْآنَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ أَيُّهَا الْمَرْئُ إِنَّهُ لَا أَحْسَنَ مِمَّا تَقُولُ إِنْ کَانَ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا بِهِ فِي مَجْلِسِنَا ارْجِعْ إِلَی رَحْلِکَ فَمَنْ جَائَکَ فَاقْصُصْ عَلَيْهِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاغْشَنَا بِهِ فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِکَ فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِکُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّی کَادُوا يَتَثَاوَرُونَ فَلَمْ يَزَلْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّی سَکَنُوا ثُمَّ رَکِبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَابَّتَهُ فَسَارَ حَتَّی دَخَلَ عَلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ قَالَ کَذَا وَکَذَا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْفُ عَنْهُ وَاصْفَحْ عَنْهُ فَوَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْکَ الْکِتَابَ لَقَدْ جَائَ اللَّهُ بِالْحَقِّ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْکَ لَقَدْ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ عَلَی أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُوهُ بِالْعِصَابَةِ فَلَمَّا أَبَی اللَّهُ ذَلِکَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاکَ اللَّهُ شَرِقَ بِذَلِکَ فَذَلِکَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ فَعَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَعْفُونَ عَنْ الْمُشْرِکِينَ وَأَهْلِ الْکِتَابِ کَمَا أَمَرَهُمْ اللَّهُ وَيَصْبِرُونَ عَلَی الْأَذَی قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنْ الَّذِينَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنْ الَّذِينَ أَشْرَکُوا أَذًی کَثِيرًا الْآيَةَ وَقَالَ اللَّهُ وَدَّ کَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَکُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَأَوَّلُ الْعَفْوَ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ حَتَّی أَذِنَ اللَّهُ فِيهِمْ فَلَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا فَقَتَلَ اللَّهُ بِهِ صَنَادِيدَ کُفَّارِ قُرَيْشٍ قَالَ ابْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ الْمُشْرِکِينَ وَعَبَدَةِ الْأَوْثَانِ هَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّهَ فَبَايَعُوا الرَّسُولَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْإِسْلَامِ فَأَسْلَمُوا
ابو الیمان، شعیب، زہری، عروہ بن زبیر، حضرت اسامہ بن زید رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اپنے گدھے پر بیٹھے تھے جس پر شہر فدکیہ کی بنی ہوئی چادر پڑی تھی آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سوار کرلیا پھر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے دیکھنے کو تشریف لے گئے اور یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے راستہ میں آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ان میں مشہور منافق عبد ﷲ بن ابی بن ابی سلول بھی بیٹھا ہوا تھا اور وہ اس وقت تک ظاہرا بھی اسلام نہیں لایا تھا اس مجلس میں مسلمان، مشرک اور یہودی بھی بیٹھے تھے اور ان میں عبد ﷲ بن رواحہ رضی ﷲ عنہ بھی بیٹھے تھے جو مسلمان اور صحابی تھے چناچہ گدھے کے چلنے سے گرد اڑی جو ان پر پری تو عبد ﷲ بن ابی نے اپنی ناک کو چادر سے چھپا دیا اور کہا کہ گرد مت اڑاؤ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کیا پھر سواری سے اترے قرآن کی تلاوت فرمائی اور ان سب کو ﷲ تعالیٰ کی طرف آنے کی دعوت دی عبد ﷲ بن ابی نے کہا اگر تم سچے ہو اور تمہاری بات بھی بہت عمدہ ہے مگر ہمارے کان مت کھاؤ اپنے گھر میں جاؤ اور جو وہاں تمہارے پاس جائے اس کو سناؤ، عبد ﷲ بن رواحہ رضی ﷲ عنہ نے کہا ہاں یا رسول ﷲ! آپ ہمارے گھر میں تشریف لایا کیجئے اور ہم کو سنایا کیجئے کیونکہ ہم کو یہ باتیں بھی بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں اس کے بعد مسلمانوں اور کافروں میں کچھ ناگوار، تلخ گفتگو شروع ہو گئی یہاں تک کہ ہاتھا پائی تک نوبت پہنچ گئی آخر معاملہ رفع دفع ہوگیا اور آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو گئے اور سعد بن عبادہ رضی ﷲ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے اور حضرت سعد رضی ﷲ عنہ سے فرمایا کہ اے سعد! کیا تم نے ابوحباب سے باتیں کی ہیں؟ یعنی عبد ﷲ بن ابی نے اس قسم کی باتیں سنی ہیں حضرت سعد بن عبادہ نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! آپ فکر نہ کریں اور اس کی باتوں کا کوئی خیال نہ فرمائیں وہ اپنے حسد کی وجہ سے یہ سب کچھ کرنے پر مجبور ہے میں اس ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس نے آپ پر قرآن اتار اہے جو کچھ آپ پر نازل ہو رہا ہے وہ برحق اور صحیح ہے اور آپ ﷲ کے سچے نبی اور رسول ہیں بات یہ ہے کہ مدینہ کے لوگوں نے آپ کے تشریف لانے سے پہلے یہ طے کرلیا تھا کہ ہم عبد ﷲ بن ابی کو اپنا سردار بنائیں گے اور اس کو تاج پہنائیں گے لیکن پھر آپ تشریف لے آئے اور اس کو یہ بات ناگوار گزری- اس لئے وہ آپ کی شان میں گستاخی کرتا ہے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو معاف کردیا کیونکہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی یہ عادت تھی کہ وہ ہمیشہ کافروں کی گستاخیوں کو معاف کردیا کرتے تھے جیسا کہ ﷲ تعالیٰ نے فرمایا اور اوپر کی﴿وَلَتَسْمَعُنَّ مِنْ الَّذِينَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنْ الَّذِينَ أَشْرَکُوا أَذًی کَثِيرًا۔ الایۃ﴾ گزری اور فرمایا ﷲ تعالیٰ نے ﴿وَدَّ کَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَکُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِکُمْ کُفَّارًا۔ الی آخر الایۃ﴾ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ کافروں کی تکلیف کے بارے میں وہی کیا کرتے تھے جو ﷲ تعالیٰ ارشاد فرمایا کرتا تھا یہاں تک کہ ﷲ تعالیٰ نے کافروں سے جہاد کا حکم نازل فرمایا اور اس کے بعد آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کی جنگ کی اور مکہ کے بڑے بڑے کفار مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل کئے گئے اس وقت عبد ﷲ بن ابی اپنے ساتھیوں سے کہتا تھا کہ اب یہ دین غالب ہوگیا ہے اور اس میں شریک ہونے کا وقت ہونے کا وقت آ گیا ہے لہذا مسلمان ہو جاؤ اور ظاہر میں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کرکے خود کو مسلمان ظاہر کرتے رہو گویا منافق بنے رہو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment