کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو شخص رمضان کو پائے وہ پورے مہینے کے روزے رکھے۔
حدیث نمبر
4160
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَی سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَعَلَی الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْکِينٍ کَانَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ حَتَّی نَزَلَتْ الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ مَاتَ بُکَيْرٌ قَبْلَ يَزِيدَ
قتیبہ، بکر بن مضر، عمرو بن حارث، بکیر، یزید بن ابی عبید، حضرت سلمہ بن اکوع سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی ( وَعَلَی الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ) یعنی تندرست آدمی بھی اگر چاہے تو روزہ نہ رکھے اور فدیہ ادا کردے چناچہ اس کے بعد پھر یہ آیت نازل ہوئی کہ (فَمَن شَھِدَ مِنکُمُ الشَّھر) تو اس آیت سے وہ اگلی آیت منسوخ کردی گئی- بکیر کا انتقال یزید سے قبل ہوا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment