کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اپنی نماز نہ تو بالکل ہی زور سے پڑھو اور نہ بالکل آہستہ بلکہ درمیانی آواز سے۔
حدیث نمبر
4370
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَی وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا قَالَ نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخْتَفٍ بِمَکَّةَ کَانَ إِذَا صَلَّی بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَإِذَا سَمِعَهُ الْمُشْرِکُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَائَ بِهِ فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَی لِنَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِکَ أَيْ بِقِرَائَتِکَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِکُونَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا عَنْ أَصْحَابِکَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِکَ سَبِيلًا
یعقوب بن ابراہیم، ہشیم، ابوبشر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ یہ آیت (َلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا الخ) مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جب کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نماز بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے مشرک جب سنتے تو قرآن اس کے اتارنے والے اور جس پر اتارا جا رہا تھا سب کو برا بھلا کہا کرتے تھے تو ﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی کہ (َلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا الآیہ) کہ قرات نہ تو زیادہ بلند ہونی چاہئے کہ مشرکین سن کر بکواس کرنے لگیں اور نہ اتنی آہستہ ہونی چاہئے کہ آپ کے ساتھ والے بھی نہ سن سکیں بلکہ قرات درمیانی آواز میں ہونی چاہئے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment