Sunday, June 5, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1600,TotalNo:4136


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
ارشاد باری تعالیٰ واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی کی تفسیر۔
حدیث نمبر
4136
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ وَافَقْتُ اللَّهَ فِي ثَلَاثٍ أَوْ وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلَاثٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ اتَّخَذْتَ مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّی وَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَدْخُلُ عَلَيْکَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ أَمَرْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْحِجَابِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ قَالَ وَبَلَغَنِي مُعَاتَبَةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ نِسَائِهِ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِنَّ قُلْتُ إِنْ انْتَهَيْتُنَّ أَوْ لَيُبَدِّلَنَّ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا مِنْکُنَّ حَتَّی أَتَيْتُ إِحْدَی نِسَائِهِ قَالَتْ يَا عُمَرُ أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَعِظُ نِسَائَهُ حَتَّی تَعِظَهُنَّ أَنْتَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَسَی رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَکُنَّ أَنْ يُبَدِّلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْکُنَّ مُسْلِمَاتٍ الْآيَةَ وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ سَمِعْتُ أَنَسًا عَنْ عُمَرَ
مسدد یحییٰ بن سعید حمید حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، تین باتیں میری ایسی ہیں جو وحی الٰہی کے موافق ہوئیں یا یہ کہا کہ ﷲ تعالیٰ نے میری تین باتوں سے اتفاق کیا پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے آنحضرت سے عرض کیا کہ آپ طواف کے بعد مقام ابراہیم میں نماز ادا کریں، چناچہ اس کے موافق واتخدو الخ میں نمازکا حکم ہوا، دوسری بات یہ کہ میں نے کہا یا رسول ﷲ آپ کے پاس منافق اور دوسرے غیر لوگ بھی آتے ہیں اچھا ہو اگر آپ ازواج مطہرات کو پردہ کا حکم فرمائیں تو ﷲ نے آیت حجاب نازل فرمائی تیسری یہ ہے کہ مجھے معلوم ہوا کہ آپ بیویوں سے ناراض ہیں تو میں ان کے پاس پہنچا اور کہا کہ دیکھو تم آنحضرت کو ناراض نہ کرو ورنہ ﷲ تعالیٰ تم سے بہتر عورتیں اپنے رسول کو عطا فرما سکتا ہے مگر ایک بیوی صاحبہ نے کہا، اے عمر! کیا حضور ہم کو نصیحت نہیں کرسکتے جو تم نصیحت کرنے آئے ہو جاؤ اپنی نصیحت رہنے دو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ﴿َعسَی رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَکُنَّ أَنْ يُبَدِّلَهُ ﴾ یعنی کوئی تعجب نہیں کہ رسول تم کو طلاق دے دے، اور ﷲ تمہارے بدلے میں تم سے بھی بہتربیویاں ان کو عطا فرمائے (دوسری سند) ابن ابی مریم کہتے ہیں کہ یہی حدیث یحییٰ بن ایوب، حمید، حضرت انس سے اور وہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment