Sunday, June 5, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1695,TotalNo:4231


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ تعالیٰ ذرہ بھر بھی ظلم پسند نہیں کرتا ہے مثقال کا مطلب وزن ہوتا ہے۔
حدیث نمبر
4231
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُنَاسًا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ بِالظَّهِيرَةِ ضَوْئٌ لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ قَالُوا لَا قَالَ وَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ضَوْئٌ لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ قَالُوا لَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا کَمَا تُضَارُونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ تَتْبَعُ کُلُّ أُمَّةٍ مَا کَانَتْ تَعْبُدُ فَلَا يَبْقَی مَنْ کَانَ يَعْبُدُ غَيْرَ اللَّهِ مِنْ الْأَصْنَامِ وَالْأَنْصَابِ إِلَّا يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ حَتَّی إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ کَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ بَرٌّ أَوْ فَاجِرٌ وَغُبَّرَاتُ أَهْلِ الْکِتَابِ فَيُدْعَی الْيَهُودُ فَيُقَالُ لَهُمْ مَنْ کُنْتُمْ تَعْبُدُونَ قَالُوا کُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرَ ابْنَ اللَّهِ فَيُقَالُ لَهُمْ کَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ فَمَاذَا تَبْغُونَ فَقَالُوا عَطِشْنَا رَبَّنَا فَاسْقِنَا فَيُشَارُ أَلَا تَرِدُونَ فَيُحْشَرُونَ إِلَی النَّارِ کَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ ثُمَّ يُدْعَی النَّصَارَی فَيُقَالُ لَهُمْ مَنْ کُنْتُمْ تَعْبُدُونَ قَالُوا کُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ فَيُقَالُ لَهُمْ کَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ فَيُقَالُ لَهُمْ مَاذَا تَبْغُونَ فَکَذَلِکَ مِثْلَ الْأَوَّلِ حَتَّی إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ کَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ أَتَاهُمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ فِي أَدْنَی صُورَةٍ مِنْ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا فَيُقَالُ مَاذَا تَنْتَظِرُونَ تَتْبَعُ کُلُّ أُمَّةٍ مَا کَانَتْ تَعْبُدُ قَالُوا فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا عَلَی أَفْقَرِ مَا کُنَّا إِلَيْهِمْ وَلَمْ نُصَاحِبْهُمْ وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا الَّذِي کُنَّا نَعْبُدُ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ لَا نُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا
محمد بن عبدالعزیز، ابوعمر حفص بن میسرہ، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، حضرت ابوسعید خدری رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے چند لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم! کیا قیامت کے دن ہم ﷲ تعالیٰ کو دیکھیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں! دیکھو گے، دوپہر کے وقت جب کہ ابر وغیرہ کچھ نہ ہو صاف روشنی پھیلی ہو کیا سورج کے دیکھنے میں تم کو اختلاف ہے؟ عرض کیا نہیں اس کے بعد آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا چودھویں رات کو جب ابر موجود نہ ہو چاند کے دیکھنے میں تم کو کوئی اختلاف ہے؟ عرض کیا کہ نہیں! تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پس اسی طرح تم قیامت کے دن رب تبارک و تعالیٰ کو دیکھو گے اور کوئی دقت نہیں ہوگی جس طرح سورج یا چاند کے دیکھنے میں نہیں ہوتی ہے اور قیامت کا دن ایسا دن ہوگا کہ کوئی پکارنے والا پکارے گا کہ اے لوگو! تم میں جو آدمی جس کو پوجتا تھا اسی کے ساتھ ہو لے لہذا ﷲ کے سوا کی پرستش کرنے والا کوئی باقی نہ رہے گا چناچہ تمام جھوٹے پجاری اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ دوزخ میں گریں گے اور صرف وہی باقی رہیں گے جو ﷲ تعالیٰ کو پوجتے تھے اور اس میں اچھے برے سب ہی ہوں گے پھر کچھ اہل کتاب یعنی یہودی بلائے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے خدا کے علاوہ کسی اور کو بھی پوجا تھا وہ جواب دیں گے کہ ہاں! ہم حضرت عزیر کو بھی پوجتے تھے کہ وہ خدا کے بیٹے تھے، تو ان سے کہا جائے گا کہ تم جھوٹ کہتے ہو خدا کی نہ بیوی ہے نہ بیٹا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم کو پیاس لگی ہے تھوڑا سا پانی مل جائے لہذا ان کے لئے ایک ریتے کا میدان بنایا جائے گا جو پانی کی طرح چمکتا ہوگا حالانکہ وہ دوزخ ہوگی اس کے پاس بھیجا جائے گا اور وہ ان کو جلا کر بھسم کردیگی اس کے بعد نصاریٰ کو بلایا جائے گا اور ان سے بھی یہی سوال ہوگا کہ تم نے ﷲ کے علاوہ کس کو پوجا ہے؟ وہ بولیں گے ہم تو یسوع مسیح علیہ السلام کو پوجتے تھے کہ وہ خدا کے فرزند ہیں جواب ملے گا کہ تم کاذب ہو کیونکہ ﷲ کے کوئی اولاد یا بیوی نہیں ہے پھر پوچھا جائے گا اچھا تم کیا چاہتے ہو؟ وہ بھی وہی جواب دیں گے جو یہودیوں نے دیا تھا پھر چلیں گے اور دوزخ میں گر پڑیں گے پھر تو میدان میں صرف وہی باقی ہوں گے جو صرف ﷲ کی عبادت کرتے تھے ان میں بھی اچھے اور برے سب ہی ہوں گے مگر ﷲ ان کو اس صورت پر نظر نہ آئے گا جس کو وہ جانتے تھے تو ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں کس کا انتظار ہے؟ حالانکہ ہر فرقہ اپنے ٹھکانے پر جا چکا، جواب دیں گے کہ ہم اس معبود برحق کی راہ دیکھ رہے تھے جس کی عبادت کرتے تھے پھر ﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں پھر سب لوگ کہیں گے کہ ہم ﷲ کے ساتھ کسی کو شریک اور ساجھی نہیں بناتے یہ جملہ دو یا تین مرتبہ کہیں گے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment