کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ کے آگے ادب کے ساتھ کھڑے ہو قانتین کے معنی ہیں فرمانبردار۔
حدیث نمبر
4185
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ کُنَّا نَتَکَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ يُکَلِّمُ أَحَدُنَا أَخَاهُ فِي حَاجَتِهِ حَتَّی نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ فَأُمِرْنَا بِالسُّکُوتِ
مسدد، یحییٰ، اسمٰعیل بن ابی خالد، حارث بن شبیل، ابوعمرہ شیبانی، حضرت زید بن ارقم رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم کو نماز میں اگر کوئی ضرورت پیش آجاتی تھی تو ہم باتیں کرلیا کرتے تھے، تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ نمازوں پر حفاظت کرو- خصوصا درمیانی نماز پر اور خاموش ہوکر ﷲ کے سامنے کھڑے رہا کرو تو ہمیں خاموشی کا حکم دیا گیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment