کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
تفسیر سورۃ ص
حدیث نمبر
4457
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلْ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ مِنْ الْعِلْمِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ مَا أَسْأَلُکُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنْ الْمُتَکَلِّفِينَ وَسَأُحَدِّثُکُمْ عَنْ الدُّخَانِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا قُرَيْشًا إِلَی الْإِسْلَامِ فَأَبْطَئُوا عَلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ کَسَبْعِ يُوسُفَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ فَحَصَّتْ کُلَّ شَيْئٍ حَتَّی أَکَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْجُلُودَ حَتَّی جَعَلَ الرَّجُلُ يَرَی بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَائِ دُخَانًا مِنْ الْجُوعِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَی النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ قَالَ فَدَعَوْا رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ أَنَّی لَهُمْ الذِّکْرَی وَقَدْ جَائَهُمْ رَسُولٌ مُبِينٌ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ إِنَّا کَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّکُمْ عَائِدُونَ أَفَيُکْشَفُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَکُشِفَ ثُمَّ عَادُوا فِي کُفْرِهِمْ فَأَخَذَهُمْ اللَّهُ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْکُبْرَی إِنَّا مُنْتَقِمُونَ
قتیبہ، جریر، اعمش، ابوالضحی، مسروق سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم عبد ﷲ بن مسعود کے پاس گئے تو انہوں نے کہا کہ اے لوگو! جو شخص کسی بات کو جانتا ہے تو وہ اس کو بیان کرے اور جو نہیں جانتا ہے تو اس کو کہنا چاہئے کہ ﷲ زیادہ جانتا ہے اس لئے کہ یہ علم کی بات ہے کہ جو جس چیز کو نہ جانتا ہو اس کے متعلق کہہ دے کہ ﷲ زیادہ جانتا ہے ﷲ بزرگ و برتر نے اپنے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا کہ آپ کہہ دیجئے میں تم لوگوں سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والا ہوں اور عنقریب میں تم سے دخان (دھواں) کے معنی بیان کروں گا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کو اسلام کی طرف بلایا اور ان لوگوں نے تاخیر کی تو آپ نے فرمایا کہ یا ﷲ یوسف علیہ السلام کی قحط سالی کی طرح قحط سالی کے ذریعہ ان کے خلاف میری مدد کر چناچہ قحط نے ان لوگوں کو گھیر لیا اور ہر چیز ختم ہو گئی یہاں تک کہ وہ لوگ مردار اور چمڑے کھانے لگے یہ حالت ہو گئی کہ آسمان کی طرف کوئی شخص نظر اٹھاتا تو بھوک کے سبب سے اسے دھواں نظر آتا ﷲ عزوجل نے فرمایا انتظار کرو اس دن کا جس دن آسمان کھلا دھواں لائے گا لوگوں پر چھا جائے گا یہ درد ناک عذاب ہوگا ابن مسعود رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے دعا کی اے ہمارے خدا! ہم سے عذاب دور کر ہم ایمان لاتے ہیں انہیں نصیحت کہاں حالانکہ ان کے پاس بیان کرنے والا رسول آ چکا پھر وہ اس سے پھر گئے اور کہنے لگے کہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے بیشک ہم تھوڑے دن کے لئے عذاب دور کردیں گے- ابن مسعود نے کہا کہ قیامت میں بھی عذاب دور کیا جائے گا ابن مسعود کا بیان ہے کہ عذاب دور کردیا گیا پھر وہ اپنے کفر کی طرف لوٹ گئے تو ﷲ نے انہیں بدر کے دن پکڑا ﷲ نے فرمایا جس دن ہم سخت پکڑیں گے ہم اس وقت انتقام لے لیں گے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment