کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب وہ مجمع البحرین پر پہنچے۔
حدیث نمبر
4374
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَی بْنُ مُسْلِمٍ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَی صَاحِبِهِ وَغَيْرُهُمَا قَدْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ إِنَّا لَعِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيْتِهِ إِذْ قَالَ سَلُونِي قُلْتُ أَيْ أَبَا عَبَّاسٍ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَائَکَ بِالْکُوفَةِ رَجُلٌ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ نَوْفٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ بِمُوسَی بَنِي إِسْرَائِيلَ أَمَّا عَمْرٌو فَقَالَ لِي قَالَ قَدْ کَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ وَأَمَّا يَعْلَی فَقَالَ لِي قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوسَی رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ ذَکَّرَ النَّاسَ يَوْمًا حَتَّی إِذَا فَاضَتْ الْعُيُونُ وَرَقَّتْ الْقُلُوبُ وَلَّی فَأَدْرَکَهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ هَلْ فِي الْأَرْضِ أَحَدٌ أَعْلَمُ مِنْکَ قَالَ لَا فَعَتَبَ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَی اللَّهِ قِيلَ بَلَی قَالَ أَيْ رَبِّ فَأَيْنَ قَالَ بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ قَالَ أَيْ رَبِّ اجْعَلْ لِي عَلَمًا أَعْلَمُ ذَلِکَ بِهِ فَقَالَ لِي عَمْرٌو قَالَ حَيْثُ يُفَارِقُکَ الْحُوتُ وَقَالَ لِي يَعْلَی قَالَ خُذْ نُونًا مَيِّتًا حَيْثُ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ فَأَخَذَ حُوتًا فَجَعَلَهُ فِي مِکْتَلٍ فَقَالَ لِفَتَاهُ لَا أُکَلِّفُکَ إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنِي بِحَيْثُ يُفَارِقُکَ الْحُوتُ قَالَ مَا کَلَّفْتَ کَثِيرًا فَذَلِکَ قَوْلُهُ جَلَّ ذِکْرُهُ وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِفَتَاهُ يُوشَعَ بْنِ نُونٍ لَيْسَتْ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ فِي ظِلِّ صَخْرَةٍ فِي مَکَانٍ ثَرْيَانَ إِذْ تَضَرَّبَ الْحُوتُ وَمُوسَی نَائِمٌ فَقَالَ فَتَاهُ لَا أُوقِظُهُ حَتَّی إِذَا اسْتَيْقَظَ نَسِيَ أَنْ يُخْبِرَهُ وَتَضَرَّبَ الْحُوتُ حَتَّی دَخَلَ الْبَحْرَ فَأَمْسَکَ اللَّهُ عَنْهُ جِرْيَةَ الْبَحْرِ حَتَّی کَأَنَّ أَثَرَهُ فِي حَجَرٍ قَالَ لِي عَمْرٌو هَکَذَا کَأَنَّ أَثَرَهُ فِي حَجَرٍ وَحَلَّقَ بَيْنَ إِبْهَامَيْهِ وَاللَّتَيْنِ تَلِيَانِهِمَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا قَالَ قَدْ قَطَعَ اللَّهُ عَنْکَ النَّصَبَ لَيْسَتْ هَذِهِ عَنْ سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ فَرَجَعَا فَوَجَدَا خَضِرًا قَالَ لِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَلَی طِنْفِسَةٍ خَضْرَائَ عَلَی کَبِدِ الْبَحْرِ قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ مُسَجًّی بِثَوْبِهِ قَدْ جَعَلَ طَرَفَهُ تَحْتَ رِجْلَيْهِ وَطَرَفَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ مُوسَی فَکَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ وَقَالَ هَلْ بِأَرْضِي مِنْ سَلَامٍ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا مُوسَی قَالَ مُوسَی بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا شَأْنُکَ قَالَ جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رَشَدًا قَالَ أَمَا يَکْفِيکَ أَنَّ التَّوْرَاةَ بِيَدَيْکَ وَأَنَّ الْوَحْيَ يَأْتِيکَ يَا مُوسَی إِنَّ لِي عِلْمًا لَا يَنْبَغِي لَکَ أَنْ تَعْلَمَهُ وَإِنَّ لَکَ عِلْمًا لَا يَنْبَغِي لِي أَنْ أَعْلَمَهُ فَأَخَذَ طَائِرٌ بِمِنْقَارِهِ مِنْ الْبَحْرِ وَقَالَ وَاللَّهِ مَا عِلْمِي وَمَا عِلْمُکَ فِي جَنْبِ عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا کَمَا أَخَذَ هَذَا الطَّائِرُ بِمِنْقَارِهِ مِنْ الْبَحْرِ حَتَّی إِذَا رَکِبَا فِي السَّفِينَةِ وَجَدَا مَعَابِرَ صِغَارًا تَحْمِلُ أَهْلَ هَذَا السَّاحِلِ إِلَی أَهْلِ هَذَا السَّاحِلِ الْآخَرِ عَرَفُوهُ فَقَالُوا عَبْدُ اللَّهِ الصَّالِحُ قَالَ قُلْنَا لِسَعِيدٍ خَضِرٌ قَالَ نَعَمْ لَا نَحْمِلُهُ بِأَجْرٍ فَخَرَقَهَا وَوَتَدَ فِيهَا وَتِدًا قَالَ مُوسَی أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا قَالَ مُجَاهِدٌ مُنْکَرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِي صَبْرًا کَانَتْ الْأُولَی نِسْيَانًا وَالْوُسْطَی شَرْطًا وَالثَّالِثَةُ عَمْدًا قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ قَالَ يَعْلَی قَالَ سَعِيدٌ وَجَدَ غِلْمَانًا يَلْعَبُونَ فَأَخَذَ غُلَامًا کَافِرًا ظَرِيفًا فَأَضْجَعَهُ ثُمَّ ذَبَحَهُ بِالسِّکِّينِ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَکِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَمْ تَعْمَلْ بِالْحِنْثِ وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَرَأَهَا زَکِيَّةً زَاکِيَةً مُسْلِمَةً کَقَوْلِکَ غُلَامًا زَکِيًّا فَانْطَلَقَا فَوَجَدَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ قَالَ سَعِيدٌ بِيَدِهِ هَکَذَا وَرَفَعَ يَدَهُ فَاسْتَقَامَ قَالَ يَعْلَی حَسِبْتُ أَنَّ سَعِيدًا قَالَ فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ فَاسْتَقَامَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا قَالَ سَعِيدٌ أَجْرًا نَأْکُلُهُ وَکَانَ وَرَائَهُمْ وَکَانَ أَمَامَهُمْ قَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَامَهُمْ مَلِکٌ يَزْعُمُونَ عَنْ غَيْرِ سَعِيدٍ أَنَّهُ هُدَدُ بْنُ بُدَدَ وَالْغُلَامُ الْمَقْتُولُ اسْمُهُ يَزْعُمُونَ جَيْسُورٌ مَلِکٌ يَأْخُذُ کُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا فَأَرَدْتُ إِذَا هِيَ مَرَّتْ بِهِ أَنْ يَدَعَهَا لِعَيْبِهَا فَإِذَا جَاوَزُوا أَصْلَحُوهَا فَانْتَفَعُوا بِهَا وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ سَدُّوهَا بِقَارُورَةٍ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ بِالْقَارِ کَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ وَکَانَ کَافِرًا فَخَشِينَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَکُفْرًا أَنْ يَحْمِلَهُمَا حُبُّهُ عَلَی أَنْ يُتَابِعَاهُ عَلَی دِينِهِ فَأَرَدْنَا أَنْ يُبَدِّلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَکَاةً لِقَوْلِهِ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَکِيَّةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا هُمَا بِهِ أَرْحَمُ مِنْهُمَا بِالْأَوَّلِ الَّذِي قَتَلَ خَضِرٌ وَزَعَمَ غَيْرُ سَعِيدٍ أَنَّهُمَا أُبْدِلَا جَارِيَةً وَأَمَّا دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَاصِمٍ فَقَالَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ إِنَّهَا جَارِيَةٌ
ابراہیم بن موسیٰ، ہشام بن یوسف، ابن جریج، یعلی بن مسلم، عمرو بن دینار، سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ابن عباس کے پاس ان کے گھر میں بیٹھے تھے میں نے ان سے ان کی خواہش پر پوچھا کہ ﷲ مجھے آپ پر قربان کرے، کوفہ کے ایک واعظ نوف کا بیان ہے کہ موسیٰ بنی اسرائیل کے نبی اور تھے اور جو خضر کے ساتھ رہے وہ اور تھے کیا یہ درست ہے؟ ابن عباس نے کہا اس خدا کے دشمن نے جھوٹ بولا، ابن جریج کا بیان ہے کہ یلی بن مسلم نے مجھے جو حدیث بیان کی اس میں یہ تھا کہ ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے سعید سے یہ کہا تھا کہ ابی بن کعب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے مجھے کہا تھا کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک دن موسیٰ علیہ السلام نے وعظ کہا لوگوں کو رقت پیدا ہو گئی اور بہت روئے ایک شخص نے عرض کیا کہ اے موسیٰ ﷲ کے پیغمبر! کیا اس زمین میں آپ سے بھی زیادہ جاننے والا کوئی عالم موجود ہے؟ حضرت موسیٰ نے فرمایا نہیں، ﷲ تعالیٰ کو یہ بات ناگوار ہوئی کیونکہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ﷲ ہی زیادہ جانتا ہے چناچہ ﷲ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ! ہمارے بعض بندے تم سے بھی زیادہ علم والے ہیں حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ مولیٰ مجھے ان کا پتہ بتا تاکہ میں ان سے ملوں اور علم حاصل کروں ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے مجھ سے اس طرح کہا کہ ﷲ کی طرف سے ارشاد ہوا کہ اس کا پتہ یہ ہے کہ جہاں تمہاری مچھلی گم ہوجائے گی خضر تم کو وہیں ملیں گے یعلی نے بیان کیا کہ ﷲ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا تھا کہ ایک مری ہوئی مچھلی لے لو جہاں وہ زندہ ہوجائے گی بس اسی جگہ وہ شخص تم کو ملے گا حضرت موسیٰ نے ایک مچھلی تھیلے میں ڈالی اور اپنے خادم یوشع کو ساتھ لیا اور اس سے کہا کہ تم کو صرف اتنی تکلیف دیتا ہوں کہ جہاں مچھلی گم ہوجائے مجھے بتا دینا یوشع نے عرض کیا کہ یہ کیا بڑی بات ہے سعید کی روایت میں یوشع بن نون کا نام نہیں ہے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب حضرت موسیٰ اپنے ساتھی کے ساتھ ایک پتھر کی چٹان کے پاس پہنچے دریا کے کنارے تو موسیٰ سو گئے مچھلی تڑپ کر دریا میں چلی گئی نوجوان ساتھی نے خیال کیا کہ جگانا نہیں چاہئے جب اٹھیں گے تو کہہ دوں گا مگر ان کے اٹھنے کے بعد بھول گیا ﷲ نے مچھلی کے جانے کی وجہ سے پانی کو روک دیا اور پانی میں ایک خاص نشان سرنگ کی طرح بن گیا روای کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے یہ کہا تھا کہ وہ مچھلی پانی میں ایک سوراخ بنا کر چھوڑتی چلی گئی اور پھر عمرو نے اپنے دونوں انگوٹھوں اور پاس والی انگلیوں سے حلقہ بنا کر بتایا اس کے بعد یہ دونوں حضرات آگے چلے گئے اور کچھ دور جا کر حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ مجھے سفر کی تکان معلوم ہوتی ہے یوشع نے کہا کہ ﷲ نے آپ کی تھکن کو دور کردیا اس کے بعد یوشع نے کہا کہ مچھلی تو فلاں جگہ گم ہو گئی اور میں آپ سے کہنا بھول گیا چناچہ حضرت موسیٰ لوٹ کر چٹان کے قریب آئے تو دیکھا کہ خضر کھڑے ہیں ابن جریج نے کہا کہ عثمان بن ابی سلیمان کا بیان ہے کہ آپ نے خضر کو دریا میں سبز بستر پر بیٹھے دیکھا سعید کہتے ہیں کہ کپڑا اوڑھے ہوئے تھے اور کپڑے کا ایک کنارا پیروں تلے دبایا ہوا تھا اور دوسرا کنارہ سر پر تھا حضرت موسیٰ نے سلام کیا خضر نے کہا کہ میرے ملک میں سلام کا طریقہ نہیں ہے تم کون ہو؟ حضرت موسیٰ نے کہا میں موسیٰ ہوں خضر نے کہا کیا بنی اسرائیل کے موسیٰ ہو؟ حضرت موسیٰ نے کہا جی ہاں! خضر نے کہا پھر یہاں کس کام کے لئے آئے ہو؟ حضرت موسیٰ نے کہا اس لئے کہ آپ مجھے اپنا علم سکھائیں خضر نے کہا کیا تورات اور وحی آپ کو کافی نہیں؟ اے موسیٰ! میرا علم تم نہیں سیکھ سکتے اور تمہارا علم میں نہیں سیکھ سکتا خضر یہ کہہ رہے تھے کہ ایک چڑیا نے دریا سے ایک چونچ پانی لیا خضر نے کہا اے موسیٰ! ہمارا اور تمہارا علم ﷲ کے سامنے ایسا ہے جیسے وہ پانی جو اس پرندہ نے چونچ میں بھرا پھر وہ ایک چھوٹی سی ناؤ میں سوار ہوئے جو لوگوں کو ادھر سے ادھر لے جاتی تھی کشتی والوں نے ان کو پہچان لیا اور بلا اجرت کشتی میں بٹھا لیا خضر نے کشتی کے ایک تختہ کو توڑ دیا حضرت موسیٰ نے کہا کہ یہ تو تم نے بہت برا کیا اس سے تو کشتی والے ڈوب جائیں گے خضر نے کہا دیکھو میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے درحقیقت یہ پہلا اعتراض موسیٰ علیہ السلام نے بھولے سے کیا تھا اور دوسری بات خود حضرت موسیٰ نے شرط لگائی کہ اگر پھر ایسا ہوا تو مجھے ساتھ نہ رکھنا اور تیسرا اعتراض عمدا کیا حضرت موسیٰ نے کہا میں بھول گیا ہوں بھول پر معاف کرنا چاہئے اس کے بعد آگے بڑھے ایک بچہ ملا خضر نے اسے مار ڈالا اور گلا کاٹ دیا حضرت موسیٰ نے کہا یہ تو تم نے بلاوجہ ایک خون کر ڈالا بےگناہ کو مار ڈالا ابن عباس اس آیت میں نفسا زکیۃ زاکیۃ دونون طرح پڑھتے ہیں زاکیۃ کے معنی اچھا نیک مسلمان جیسے کہتے ہیں غلام زکیا اس کے بعد دونوں ایک بستی میں پہنچے ایک دیوار جو گرنے والی تھی اور ٹیڑھی ہو رہی ہے خضر نے اس کو ہاتھ لگا کر سیدھا کردیا سعید نے ہاتھ کا اشارہ کرکے بتایا کہ دیوار کو اس طرح سیدھا کیا تھا یعلی کہتے ہیں کہ میں خیال کرتا ہوں کہ سعید نے اسی طرح کہا تھا کہ خضر نے دیوار پر ہاتھ پھیرا تو وہ سیدھی ہو گئی حضرت موسیٰ نے اعتراض کیا اور کہا کہ اگر تم چاہتے تو اس کی مزدوری لے سکتے تھے اور اس میں کھانا پینا ہوسکتا تھا اور یہ کہ (وکان وراءھم) کے معنی امامھم کے ہیں ابن عباس نے اسی طرح پڑھا ہے ابن جریج نے کہا کہ سعید کے سوا دوسرے راویوں نے بادشاہ بددین و بد بیان کیا ہے اور وہ لڑکا جس کو خضر نے مار ڈالا تھا جیسور تھا کشتی توڑنے کی وجہ خضر نے یہ بتائی کہ وہ بادشاہ جو کہ دریا سے پار تھاظالم تھا اور بیگار میں کشتیاں پکڑتا تھا اسے بیکار سمجھ کر چھوڑ دے گا کشتی والے اسے ٹھیک کرکے کام چلائیں گے بعض نے کہا کہ سیسہ گلا کر کشتی جوڑی اور بعض نے کہا کہ لاکھ اور روغن سے جوڑا وہ لڑکا کافر تھا اور اس کے ماں باپ مومن تھے مجھے یہ خیال ہوا کہ اس کی محبت والدین کو تباہ نہ کردے لہذا میں نے اس کو اس لئے مار ڈالا تھا کہ ﷲ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے ماں باپ کو نیک اولاد عنایت فرما دے جو اس سے ہر حالت میں نیک اور اچھا ہو اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لڑکے کے بدلے میں ﷲ تعالیٰ کوئی نیک لڑکی عنایت کردے چناچہ داؤد بن عاصم کہتے ہیں کہ لڑکی ہی مراد ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment